بدین میں 26 جولائی کو کڈھن کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان محرم دل کی ہلاکت کے مقدمے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق مقابلے میں کڈھن، بدین اور دیگر تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت 5 پولیس اسٹیشنز کے افسران اور 40 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔ مقابلے میں ایس ایچ او کڈھن، سی آئی اے انچارج، ایس ایچ او بدین، ایس ایچ او راہو، ایس ایچ او کھوسکی اور نندو تھانے کے اے ایس آئی بھی شامل تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق اے ایس آئی اور پولیس اہلکار گشت پر تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ ملزم جانی لنک روڈ پر موجود ہے۔ پولیس کے پہنچنے پر ملزم نے اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی، تاہم آبادی کی موجودگی کے باعث پولیس نے ہوائی فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع اعلیٰ افسران کو دی گئی، جس کے بعد مزید افسران اور اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ مزید پولیس نفری کو دیکھ کر ملزم نے دوبارہ فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کافی دیر تک فائرنگ کرتا رہا، بعدازاں جب فائرنگ بند ہوئی تو پولیس نے کماند کی فصل میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ سرچ آپریشن کے دوران ملزم محرم دل کی لاش ملی، جس کے ہاتھ میں پستول موجود تھا۔
خیال رہے کہ مبینہ پولیس مقابلہ بدین کے علاقے کڈھن میں 26 جولائی کو ہوا۔ رورل ہیلتھ سینٹر کڈھن کے ڈاکٹر نے پوسٹمارٹم رپورٹ 30 جولائی کو ریلیز کی۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ لاش ملنے کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دینا لازمی ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محرم دل کو پہلی گولی گردن، دوسری پیٹھ کے بائیں کندھے پر لگی جو سینے کے قریب سے نکلی، تیسری گولی دائیں پسلیوں کے نیچے لگی جو آر پار ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق محرم دل کو چوتھی گولی دائیں بازو کو لگ کر دائیں بغل کے نیچے سے نکلی، پانچویں گولی بائیں کندھے کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر آر پار ہوئی، چھٹی گولی دائیں ران کے اوپر لگی، ساتویں بھی دائیں ران پر لگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محرم دل کو گردن پر غذائی نالی، گردنی مہرے، شہ رگ اور آواز کے تار کو نقصان پہنچایا، گولیوں کی وجہ سے بائیں پھیپھڑا، دل اور اس کی بڑی رگوں کو نقصان پہنچا۔
محرم دل کی ہلاکت کے واقعے پر ورثا نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیے جانے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جبکہ مقدمے کے اندراج کے لیے والدہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت 25 اگست کو ہوگی۔