برطانیہ کا اسرائیل سے ای ون منصوبہ منسوخ کرنے کا مطالبہ

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ(فائل فوٹو)۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل کی جانب سے متنازع ای ون سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئے 1,200 مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کے منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اس سے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

برطانیہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ای ون منصوبہ واپس لے، تعمیراتی ٹینڈر منسوخ کرے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روک دے۔ 

برطانوی حکومت کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی آبادکاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی مضبوط حمایت جاری رکھے گا کیونکہ یہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں اور امن مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعر نے برطانوی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ پر یک طرفہ مؤقف اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے قومی مفادات، حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

بعد ازاں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایک مشترکہ بیان میں بھی اسرائیل سے ای ون منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ چاروں یورپی ممالک نے کاروباری اداروں کو بھی خبردار کیا کہ وہ اس منصوبے سے متعلق تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ لینے سے گریز کریں، کیونکہ ایسی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کی کوششوں کے منافی سمجھی جا سکتی ہیں۔