پولیس نے دہرے قتل و خودکشی کیس کا سرا ڈھونڈ لیا

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر لکھنؤ میں بیوی، بہن کے قتل اور خودکشی کے واقعے میں نیا موڑ سامنے آ گیا ہے، پولیس نے قتل کی ممکنہ وجہ کے طور پر طلاق کے تصفیے میں 1 کروڑ روپے نان نفقہ (ایلیمنی) کے مبینہ مطالبے کی بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 38 سالہ مَناس واجپائی نے جمعرات کو پہلے اپنی اہلیہ دیویا مشرا کو گولی مار کر قتل کیا، بعد ازاں گھر جا کر اپنی 28 سالہ بہن شِوا واجپائی کو بھی قتل کیا اور خودکشی کر لی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مَناس اور دیویا کی شادی کو 12 سال ہو چکے تھے اور دونوں ایک سال سے زائد عرصے سے الگ رہ رہے تھے، دیویا نے گزشتہ سال طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور مبینہ طور پر تصفیے کے تحت 1 کروڑ روپے نان نفقے کا مطالبہ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق طلاق کی کارروائی سے متعلق دستاویزات برآمد ہوئی ہیں جن میں دیویا کی جانب سے کیے گئے مطالبات کی تفصیلات موجود ہیں۔

طلاق کا مقدمہ قتل سے صرف 2 دن قبل مقامی عدالت میں زیرِ سماعت آیا تھا اور سماعت کے دوران نان نفقہ کا معاملہ بھی سامنے آیا جس کے بعد دونوں کے درمیان تنازع مزید بڑھ گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس اب مالی تنازع کو قتل کی ممکنہ وجہ کے طور پر بھی جانچ رہی ہے۔

پولیس کے مطابق میاں بیوی کے درمیان مناس کی بہن شِوا کے حوالے سے بھی اختلافات رہتے تھے جو مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار تھی اور جوڑے کے ساتھ رہتی تھی۔

مقتولہ دیویا کی بہن اور معروف یوٹیوبر پراگیا مشرا نے الزام عائد کیا ہے کہ مناس معمولی باتوں پر بھی میری بہن دیویا کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا، ایک مرتبہ آن لائن منگوائے گئے خراب ٹماٹروں پر بھی مناس نے دیویا کو مارا تھا۔

پراگیا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مناس کو ان وارداتوں کے لیے ریوالور کہاں سے ملا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق واقعے سے قبل مناس نےواٹس ایپ کی اسٹوری پر ایک تحریر بھی جاری کی تھی جس میں مناس نے اپنی بیوی پر بے وفائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے اور اب خودکشی کرنے کے ساتھ اپنی بہن کو بھی قتل کر دوں گا۔ 

مناس نے واٹس ایپ اسٹوری میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ دیویا کی بہن پراگیا واقعے سے متعلق سب کچھ جانتی ہے۔