پاکستان اور ملائیشیا نے دہشت گردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششیں مزید مؤثر بنانے اور انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ملائیشین وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے اسلام آباد میں پاکستانی ہم منصب محسن نقوی سے ملاقات کی۔
پاکستان اور ملائیشیا کے وزرائے داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے، دونوں ممالک نے غیر قانونی امیگریشن اور سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات میں منشیات، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے، دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ، دہشت گردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں وزارتوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے کوسٹ گارڈز اور تربیتی پروگراموں کے شعبوں میں اشتراک کار پر بھی بات چیت کی۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کے شعبے میں تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، ملائیشیا مسلم ممالک میں تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک ہے۔
ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سیاحت کے فروغ اور ویزا سہولتوں میں آسانی سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ملائیشیا سیاحت کے حوالے سے پاکستانیوں کے لیے بہترین آپشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورک کوٹہ بڑھنے سے مزید پاکستانی قانونی طریقے سے ملائیشیا آ سکیں گے۔
وزارتِ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد جلد ملائیشیا کا دورہ کرے گا۔