ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے 1 کروڑ 10 لاکھ مریض ہیں: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے 1 کروڑ 10 لاکھ مریض ہیں، بہت سے لوگوں کی اسکریننگ ہی نہیں ہوئی۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سندھ میں 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ہر سال دورانِ زچگی 11 ہزار مائیں انتقال کر جاتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ سال میں 4 لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں، ہر تیسرا شخص شوگر کا مریض ہے، آج بھی پولیو زدہ ملک کہلاتے ہیں، 68 فیصد امراض گندا پانی پینے سے ہیں۔

وزیرِ صحت نے کہا کہ جس جگہ پر آپ بیٹھے ہیں یہ وفاقی حکومت کی ڈسپنسری کی جگہ ہے، صبح 8 بجے سے دوپہر تک یہاں طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہم نے یہاں پر ٹیلی میڈیسن کا کام شروع کیا ہے، یہاں ڈسپنسری کو فعال کیا گیا، ڈاکٹر آن لائن لوگوں کا معائنہ کرنے لگے، یہ ڈسپنسری ایک سیکنڈری اسپتال بننے جا رہی ہے، یہ چوتھی جگہ ہے جہاں ہم سیکنڈری اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسپتال 40 بستروں پر مشتمل ہو گا جس میں تمام سہولتیں میسر ہوں گی، 66  کروڑ روپے کی لاگت سے اسپتال 4 ماہ میں مکمل ہو گا، اسپتال میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس ہو گی۔

وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ایکسرے اور دیگر چیزوں کے لیے دور نہیں جانا پڑے گا، پروجیکٹ منظور کروانا وفاقی حکومت سے پیسے لینا آسان نہیں، اس کی مینجمنٹ کے حوالے سے نجی سیکٹر کو آن بورڈ لوں گا، ڈسپنسریوں کی توسیع کرنے کے منصوبوں کے لیے 2 ارب 86 کروڑ روپے کے فنڈز وفاقی حکومت سے حاصل کیے ہیں۔