فرانس میں گرین پارٹی کی رہنما میرین تونڈیلیئر 2027ء کے صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اس دوران وہ حاملہ ہیں، جسے فرانس کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کا حاملہ حالت میں صدارتی امیدوار بننا قرار دیا جا رہا ہے۔
39 سالہ میرین تونڈیلیئر نے رواں سال مارچ کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ 3 ماہ کی حاملہ ہوں اور بچے کی ولادت ستمبر کے اختتام پر متوقع ہے۔
ان کی یہ غیر متوقع حمل کی خبر اسقاطِ حمل، معاون تولیدی طریقہ کار اور آئی وی ایف کی متعدد ناکام کوششوں کے بعد سامنے آئی، جس کے باعث انہوں نے کچھ عرصے کے لیے مزید بچے کی خواہش کا منصوبہ مؤخر کر دیا تھا۔
بائیں بازو کی امیدوار نے بتایا کہ حمل کی خبر نے مجھے حیران کر دیا، تاہم انتخابی مہم جاری رکھنے کا فیصلہ میرے لیے کبھی بھی زیرِ سوال نہیں رہا۔
حاملہ ہونے کے باوجود صدارتی دوڑ میں شامل رہنے کے فیصلے کے بعد تونڈیلیئر کو فرانس کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد صورتِ حال کا سامنا ہے۔
وہ ایسے وقت میں انتخابی مہم چلا رہی ہیں جب 2027ء کے انتخابات سے قبل بائیں، وسطی اور دائیں بازو کے امیدوار اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ مقابلہ انتہائی دائیں بازو سے بھی ہو سکتا ہے۔
میرین تونڈیلیئر نے حاملہ ہونے کے دوران انتخابی مہم کو ’ایک حقیقی چیلنج‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ساتھی گرین امیدواروں کی حمایت کے لیے سفر کے دوران مجھے ٹرین کے واش رومز میں الٹیاں بھی کرنا پڑیں، اس کے باوجود میں نے انتخابی سرگرمیوں میں کمی نہیں کی، جولائی میں 7 ماہ کی حاملہ ہونے کے باوجود میں الیکٹرک وین کے ذریعے فرانس کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتی رہی، جبکہ اس دوران ملک شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں تھا۔
میرین تونڈیلیئر کا کہنا ہے کہ میری صدارتی مہم خواتین کی صحت، تولیدی صحت اور بانجھ پن جیسے مسائل کو اجاگر کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔
تونڈیلیئر کے مطابق حاملہ حالت میں انتخابی مہم نے مجھے ووٹرز سے مختلف انداز میں جڑنے کا موقع بھی دیا ہے۔