ایران، عراق اپنے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کو نہیں کرنے دیں گے: باقر قالیباف

اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف—فائل فوٹو

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق نے امریکا اور مغربی طاقتوں کی جانب سے اپنے مستقبل کا فیصلہ مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے، دونوں ممالک کو سیاسی اور سیکیورٹی تعاون کو عملی اقتصادی منصوبوں اور عوام کی خوش حالی میں تبدیل کرنا ہو گا۔

کربلا میں آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعدچہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے ایرانی عوام کی جانب سے عراقی عوام کو سلام پیش کیا اور جنازے کی تقریبات میں عراقی عوام کی بھرپور شرکت کو سراہا۔

قالیباف نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت ایران اور عراق کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے، دونوں ممالک کے تعلقات جغرافیہ، تاریخ اور مشترکہ مذہبی عقائد کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کو نہ کرنے دینے کے مشترکہ عزم نے تہران اور بغداد کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران اور عراق کو تاریخ میں ان دو اقوام کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے دوسروں کی کہانیوں میں محض ایک حاشیہ بننے سے انکار کیا اور اپنے مستقبل کا فیصلہ مغربی حکومتوں کے دارالحکومتوں میں نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مزاحمت، قومی استقامت اور باہمی تعاون کے ذریعے سیکیورٹی قائم کی، تاہم اب ترجیح عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہونی چاہیے۔

ایرانی اسپیکر نے ایران اور عراق پر زور دیا کہ وہ محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ سیکیورٹی، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے مشترکہ عملی منصوبے شروع کریں۔

قالیباف نے کہا کہ دونوں ممالک مشکل ترین حالات میں دوست اور بھائی بن کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور خوش حالی کے دور میں بھی اتحاد برقرار رکھنا چاہیے۔