کروڑوں کا نقصان، بنگلادیشی بورڈ کا اس سال بی پی ایل منعقد نہ کرنے کا فیصلہ

بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اس سال بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) منعقد نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ 

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بی سی بی نے لیگ کے موجودہ فارمیٹ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 

اس سلسلے میں صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ تمیم اقبال نے کہا ہے کہ بی پی ایل کے گزشتہ دو ایڈیشنز میں تقریباً 40 کروڑ ٹکا کے نقصان کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بی سی بی نئی حکمت عملی کے تحت بی پی ایل کو اگلے سال نئے انداز میں بحال کرے گا۔ بی پی ایل کے فرنچائز سسٹم، مالی معاملات اور قوانین میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔

تمیم اقبال کا کہنا تھا کہ جلد بازی میں پانچ ٹیموں کا ٹورنامنٹ کروانے کے بجائے معیار اور ساکھ برقرار رکھنے کو ترجیح دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرنچائزز کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی اور عدم تعمیل بی پی ایل کے بڑے مسائل رہے۔ فرنچائزز کے دستبردار ہونے یا قواعد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بی سی بی کو مالی ذمہ داری اٹھانا پڑی۔

صدر بی سی بی کا کہنا تھا کہ بی پی ایل کو ختم نہیں کر رہے، بہتر نظام کے لیے 6 سے 12 ماہ کا وقت لیں گے۔ بورڈ نے فرنچائزز کے ساتھ رابطے شروع کردیے، اگلے سال اپریل مئی تک فرنچائز عمل مکمل کرنے کا پلان ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت بی پی ایل کو زیادہ منظم اور پائیدار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیگ نہ ہونے کی صورت میں متبادل ڈومیسٹک کرکٹ کیلنڈر تیار کیا جائے گا۔ بی پی ایل سے بی سی بی کو منافع ہونا چاہیے، نقصان نہیں۔