پاک بھارت امن کی راہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے نکل سکتی ہے: شیری رحمٰن

شیری رحمٰن— فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ کشمیر کی متنازع حیثیت پر غیر ذمے دارانہ بیانات قابلِ قبول نہیں، یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کے بیان پر ردِعمل میں شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، بھارت مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت بدلنے کی جتنی کوشش کرے، حقائق تبدیل نہیں کر سکتا۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف یو این کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت پر مبنی ہے، امریکی سفیر کا کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا واشنگٹن کے سابقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد کشمیر پر امریکی صدر کے بیان کا پاکستان نے خیر مقدم کیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی راہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی نکل سکتی ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ کشمیر پر یک طرفہ بھارتی مؤقف عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، امریکی قیادت کے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔