چیک باؤنس کیس میری فنکارانہ شناخت کا تعین نہیں کر سکتا: راج پال یادیو

—فائل فوٹو

بالی ووڈ کے معروف اداکار راج پال یادیو نے جاری قانونی اور مالی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیک باؤنس کیس میری فنکارانہ شناخت کا تعین نہیں کر سکتا، میری ترجیح آج بھی فن اور فلمیں ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں راج پال یادیو نے کہا کہ میں اپنے کیریئر کے لیے پُرعزم ہوں اور خود کو بھارتی سنیما کا طالب علم سمجھتا ہوں۔

اداکار نے مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں ان لوگوں سے متعلق اپنی ذمے داریوں سے بخوبی آگاہ ہوں جن کے پیسے مجھ پر واجب الادا ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ مشکلات کے باوجود عوام کی جانب سے مجھے ملنے والی محبت اور حمایت میں کمی نہیں آئی۔

راج پال یادیو نے کہا کہ میں کسی بھی مشکل یا اچھے وقت میں ایئر پورٹ پر لوگوں کے ساتھ سیکڑوں سیلفیاں بنواتا ہوں، جو میرے لیے عوام کی محبت کا اظہار ہے۔

اپنے تھیٹر اور فلموں سے تعلق کے حوالے سے اداکار نے کہا کہ میں بھارت منی کا پیروکار ہوں اور میں نے تھیٹر سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

 انہوں نے خود کو ’تھیٹر اور فلموں کا پجاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا کام میرے فلمی سفر کی عکاسی کرے۔

راج پال یادیو نے کہا کہ 2000ء سے 2026ء تک اپنے سفر کو اپنے کام کے ذریعے پیش کرنا چاہتا ہوں اور اس عمل میں مزید ایک سے دو سال لگ سکتے ہیں، میں فلمیں بنانے، گھر بنانے یا کیریئر بنانے کے دوران کبھی اپنے راستے سے نہیں بھٹکا۔

راج پال یادیو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دہلی ہائی کورٹ نے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ مالی تنازع سے متعلق متعدد چیک ڈس آنر کیسز میں ان کی اور ان کی اہلیہ رادھا راج پال یادیو کی سزا برقرار رکھی تھی۔

عدالتی کارروائی کے مطابق راج پال یادیو نے رقم کا انتظام کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا اور واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانیاں کرائی تھی، تاہم وعدے پورے نہ ہونے پر عدالت نے انہیں سرنڈر کرنے کی ہدایت کی، بعد ازاں کچھ ادائیگیاں کی گئیں، تاہم فریقین کے درمیان حتمی تصفیہ نہیں ہو سکا۔

فلمی محاذ پر راج پال یادیو آخری بار ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ میں نظر آئے تھے، جس میں اکشے کمار اور سنیل شیٹی نے بھی اہم کردار نبھائے ہیں۔