امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نمایاں طور پر محدود کرنے کے حکم نے سیؤل میں امریکا کی سیکیورٹی ضمانتوں پر نئے خدشات پیدا کر دیے جبکہ ایران جنگ کے معاملے پر جنوبی کوریا کی پالیسی پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اچانک اعلان کیا ہے کہ پینٹاگون جنوبی کوریا کے ساتھ سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرے۔
انہوں نے ان مشقوں کو شمالی کوریا کے لیے نامناسب اور جارحانہ پیغام قرار دیا اور جنوبی کوریا کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
عرب میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان نے جنوبی کوریا کے حکام کو حیران کر دیا ہے، امریکی اور جنوبی کوریائی حکام کے درمیان رابطوں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ جاری فوجی مشقیں 11 دن کے بجائے 5 دن تک ہوں گی جبکہ کئی میدانی تربیتی سرگرمیوں کا دائرہ بھی محدود کیا جائے گا۔
جنوبی کوریا میں اس اقدام نے 1950ء سے 1953ء کی جنگ کے بعد قائم امریکا جنوبی کوریا سیکیورٹی اتحاد کی قابلِ اعتماد حیثیت پر بحث دوبارہ شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کا اتحاد بدستور ضروری ہے تاہم جنوبی کوریا کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط اور خود انحصار بنانا ہو گا۔
لی جے میونگ نے ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمے داری اٹھانی چاہیے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت بحال رکھنے کے لیے ممکنہ عملی تعاون پر بھی بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ چو ہیون نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ امریکی صدر کے اعلان سے قبل سیؤل کو اس فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، نہ جنوبی کوریائی حکومت اور نہ ہی امریکی حکام کو ٹرمپ کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کی جانے والی پوسٹ کا پیشگی علم تھا۔
ایران جنگ پر بھی اختلاف
صدر ٹرمپ جنوبی کوریا سے ایران کے معاملے میں تعاون کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا میں تقریباً 39,000 امریکی فوجی موجود ہیں جو شمالی کوریا سے جنوبی کوریا کی حفاظت کر رہے ہیں، اس لیے ایران کے خلاف ایک آسان فوجی کارروائی میں تعاون نہ کرنا حیران کن ہے۔
عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جنوبی کوریا میں ایران جنگ پر رائے منقسم ہے، مارچ کے آخر میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 38 فیصد افراد نے امریکا کی حمایت کرنے، 36 فیصد نے غیر جانب دار رہنے جبکہ 16 فیصد نے امریکا کی مخالفت کرنے کی حمایت کی۔
اپوزیشن جماعت کے رہنما جانگ ڈونگ ہیوک نے صدر لی کی جانب سے ایران کے معاملے میں امریکی درخواست مسترد کرنے کو سفارتی ناکامی قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے امریکا اور جنوبی کوریا کا اتحاد کمزور ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے بعض اخبارات نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنا کردار واضح کرے جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ میں تعاون شامل ہے تاہم دیگر اخبارات نے ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی اہم سیکیورٹی فیصلے کا اتحادی ملک کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے علم ہونا اتحاد کے لیے تشویش ناک ہے۔