درآمد شدہ گاڑیوں پر ایک سالہ نان ٹرانسفر پابندی، اے پی ڈی اے نے وزیراعظم سے مدد مانگ لی

فائل فوٹو۔

آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (اے پی ڈی اے) نے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیم کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر عائد ایک سالہ نان ٹرانسفر پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے فوری مداخلت اور مدد طلب کر لی ہے۔

ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف میاں شعیب احمد کی جانب سے وزیراعظم کے نام لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ S.R.O. 61(I)/2026 کے ذریعے گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیم کے تحت درآمد شدہ گاڑیوں کو تاریخ درآمد سے ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم موجودہ سیکیورٹی حالات میں یہ پابندی غیر ارادی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات پیدا کر سکتی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اوورسیز پاکستانی مالی یا ذاتی مجبوری کے باعث ایک سال مکمل ہونے سے پہلے اپنی گاڑی فروخت کرتا ہے تو قانونی ٹرانسفر ممکن نہ ہونے کے باعث سرکاری ریکارڈ میں سابق مالک کا نام ہی موجود رہتا ہے، جبکہ گاڑی عملی طور پر کسی دوسرے شخص کے قبضے اور استعمال میں ہوتی ہے۔

اے پی ڈی اے کے مطابق دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹڈ حملوں، اسمگلنگ، ڈکیتی یا کسی دوسرے سنگین جرم میں ایسی گاڑی استعمال ہونے کی صورت میں ملکیتی ریکارڈ اور حقیقی استعمال کنندہ کے درمیان فرق تحقیقات میں رکاوٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ سیف سٹی کیمروں اور آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن سمیت جدید نگرانی کے نظام کا انحصار درست اور اپ ڈیٹڈ رجسٹریشن ریکارڈ پر ہے۔ قانونی ملکیت اور حقیقی استعمال کنندہ میں فرق گاڑیوں کی مؤثر ٹریس ایبلٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اے پی ڈی اے نے وزیراعظم سے درخواست کی وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ حکام کو ایس آر او میں فوری ترمیم کرکے ایک سالہ نان ٹرانسفر پابندی ختم کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ گاڑی کا سرکاری ریکارڈ اس کے حقیقی قانونی مالک اور موجودہ استعمال کنندہ کے مطابق رہے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت گاڑیوں کی مکمل ٹریس ایبلٹی یقینی بنائی جا سکے۔