شامی فوجی اڈے پر حملے سے متعلق اسرائیلی مؤقف ناقابل قبول ہے: ترک صدارتی دفتر

—فائل فوٹو

ترکیہ نے شامی فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے سے متعلق اسرائیلی مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

ترک صدارتی دفتر کے مطابق اسرائیل کے ناقابلِ جواز الزامات کا مقصد شام میں کیے گئے غیرقانونی اسرائیلی حملوں کو جائز قرار دینا ہے۔

ترکیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی الزامات کا مقصد توسیع پسندانہ اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دینا ہے، نیتن یاہو حکومت اسرائیلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل بین الاقوامی قانون کا احترام کرے، پائیدار امن کے لیے اسرائیل کی جارحانہ اور جابرانہ پالیسیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

ترکیہ نے کہا ہے کہ شام میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز شام کے صوبہ ادلب میں ابو الظہور فوجی اڈے پر فضائی حملے کیے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ترک صدارتی دفتر کے بیان میں شام میں ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے کسی منصوبے کا واضح ذکر نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے ترک فوجیوں کو اڈے پر تعینات کرنے کی اجازت دینے کی تیاری کے باعث یہ حملے کیے گئے۔