ادرک کی چائے اپھارہ کم کرنے، وزن گھٹانے میں کتنی مددگار؟

—فائل فوٹو 

ادرک کی چائے بدہضمی، پیٹ کے اپھارے اور کھانے کے بعد ہونے والی بھاری پن کی کیفیت میں کچھ لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ 

تحقیق کے مطابق ادرک کا استعمال نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے تاہم اسے وزن کم کرنے کا باقاعدہ علاج یا چربی گھلانے والا مشروب سمجھنا درست نہیں۔

ایک تحقیق کے نتائج میں پایا گیا ہے کہ ادرک معدے سے خوراک کے اخراج کی رفتار کو بڑھاتی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

2011ء میں 126 افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں ادرک کی چائے سے اپھارہ، متلی اور معدے کے اوپری حصے میں درد جیسی علامات میں بہتری دیکھی گئیں۔

وزن کم کرنے میں ادرک کی چائے کتنی مددگار؟

ادرک کی چائے خود وزن کم کرنے کا علاج نہیں، 2025ء میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق ادرک کے سپلیمنٹس سے کمر کے حجم اور جسم میں چربی کی شرح میں کمی دیکھی گئی لیکن مجموعی طور پر جسمانی وزن یا جسم کے حجم میں کمی کے اشاریے میں نمایاں کمی ثابت نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک کے سپلیمنٹس کے استعمال سے متعلق بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ادرک کی چائے کب پینی چاہیے؟

اس بات کے مضبوط شواہد موجود نہیں کہ ادرک کی چائے صبح پینا رات کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے۔ 

کھانے کے بعد یا کھانے کے ساتھ ادرک کی چائے پینا مناسب ہو سکتا ہے جب عموماً بدہضمی یا پیٹ کے اپھارے کی شکایت یا خدشہ ہو۔

رات کے وقت چائے پینے والوں کے لیے بہتر ہے کہ ادرک کو صرف ابلتے پانی میں ڈال کر استعمال کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک کی چائے میں ذائقے کے لیے ضرورت سے زیادہ چینی یا شہد شامل کرنے سے گریز کریں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔