ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوس آف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنا کام کرنا نہیں چاہتے وہ وائٹ ہاؤس میں بال روم بنانا چاہتے ہیں اور اپنی معاون نیٹالی ہارپ کے ساتھ اڑتے محل میں سفر کرنا چاہتے ہیں، وائٹ ہاؤس حکام نے سینیٹر جان اوس آف کے بیان کو جنسی امتیاز اور بدگمانی پیدا کرنےکی کوشش قراردیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ہارپ نے مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو سن دوہزار تئیس میں کئی ایسے تعریفی اور ذاتی نوعیت کے خط لکھے تھے،جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ کے قریبی افراد حواس باختہ ہوگئے تھے۔
ایک خط میں نیٹالی ہارپ نےکہا تھا کہ میرے لیے سب کچھ آپ ہی ہیں، ایک اور خط میں کہا تھا کہ میں آپ کو خوشیاں دینا چاہتی ہوں۔
رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ سوشل میڈیا پر اپنی کئی پوسٹ نیٹالی ہارپ کو زبانی بتا کر ہی لکھواتے ہیں جس سے نیٹالی ہارپ کا دائرہ اثر بڑھ گیا ہے۔
نیٹالی ہارپ ویک اینڈ پر صدر ٹرمپ کے ساتھ ماراے لاگو رہائش گاہ اور گالف کلب بھی جاتی ہیں۔
صدرٹرمپ جب ترکیہ سے ایئرفورس ون کو چھوڑ کر سیکیورٹی خدشات کے سبب چھوٹے طیارے میں برطانیہ روانہ ہوئے تھے تو اس وقت بھی گنتی کے چند افراد جو چھوٹے طیارے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ تھے ان میں نیٹالی ہارپ بھی شامل تھیں۔
سن دوہزار انیس میں ریلی سے خطاب کے موقع پر صدر ٹرمپ نے نیٹالی ہارپ کو مجمع میں سے بلا کر خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔