موسیقی، ثقافت اور روایتی رنگوں سے سجا دو روزہ میلہ اختتام پذیر

برطانیہ میں موسیقی، رقص، ثقافتی سرگرمیوں، کھیلوں، تفریح سے بھرپور دو روزہ لیڈز روڈ فیسٹیول کا دوسرا ایڈیشن اختتام پذیر ہوگیا۔ 

بریڈفورڈ مور پارک میں 15 اور اتوار 16 اگست کو منعقد ہونے والے میلے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور مختلف ثقافتوں کی نمائندگی کرنے والے فنکاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہوئے۔

رواں برس لیڈز روڈ فیسٹیول کو گزشتہ سال کے دو روزہ پروگرام کے مقابلے میں وسعت دیتے ہوئے پورے ہفتے جاری رہنے والی تقریبات کا حصہ بنایا گیا تھا۔ فیسٹیول کا آغاز 9 اگست کو بریڈ فورڈ لائیو میں رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے کیا، جبکہ اختتامی دو روز کی مرکزی سرگرمیاں بریڈفورڈ مور پارک میں ہوئیں۔

فیسٹیول کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مقامی، قومی اور بین الاقوامی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ معروف پاکستانی گلوکار ابرار الحق، نازیہ اقبال، نعیم ہزاروی، شیر یار خان، عفی خان، طیبہ خان، ولکو ولکس، عبداللہ شاہد اور دیگر فنکاروں نے حاضرین کو محظوظ کیا۔ روایتی قوالی کے معروف فنکار وجاہت علی بغدادی نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

میلے میں متعدد فنکاروں اور موسیقی کے گروپس نے بھی پرفارم کیا اور رقص، موسیقی اور منفرد اسٹیج پرفارمنس کے ذریعے فیسٹیول کو مزید رنگا رنگ بنا دیا۔

لیڈز روڈ فیسٹیول میں موسیقی کے ساتھ کھیلوں اور خاندانی تفریح کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ اسپورٹس ایرینا میں یارکشائر کرکٹ کلب اور بریڈفورڈ بلز سے وابستہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جبکہ بچوں اور خاندانوں کے لیے فن فیئر، تخلیقی سرگرمیوں، اسٹریٹ فوڈ اور مختلف ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا۔

فیسٹیول کے ایک اہم حصے میں معروف ریسٹورنٹ کے بانی شبیر حسین کی یاد میں خصوصی ظہرانہ بھی منعقد کیا گیا۔ شبیر حسین کو ’’کَری کنگ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور وہ ’’نان ٹری‘‘ ایجاد کرنے کے دعوے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے تھے۔

فیسٹیول کے بانی سلیم اختر آف جناح اور شریک بانی یاسین محمد کے مطابق لیڈز روڈ فیسٹیول کا مقصد صرف ایک بڑے تفریحی پروگرام کا انعقاد نہیں بلکہ علاقے میں موجود مختلف کمیونٹیز، کاروبار، ثقافت، مذہبی اداروں، فیشن، ریٹیل اور دیگر سرگرمیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔

انہوں نے لیڈز روڈ کو بریڈفورڈ کا ایک اہم اور مصروف ’’گیٹ وے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ برسوں سے ہزاروں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ کے مختلف حصوں سے خاندان لیڈز روڈ پر خریداری اور کھانے کے لیے آتے ہیں، جبکہ علاقے میں ریسٹورنٹس، ریٹیل پلازہ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں نے اسے ایک منفرد شناخت دی ہے۔

فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس میلے کے ذریعے لیڈز روڈ پر بسنے والی اور کاروبار کرنے والی مختلف کمیونٹیز کی ثقافتی و سماجی زندگی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ دو روزہ اختتامی پروگرام میں ہزاروں افراد کی شرکت نے نہ صرف فیسٹیول کی مقبولیت کا اظہار کیا بلکہ بریڈفورڈ میں کمیونٹی کی سطح پر ایسے مشترکہ ثقافتی پروگراموں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

موسیقی، قوالی، رقص، کھیل، روایتی کھانوں، خاندانی تفریح اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے امتزاج کے ساتھ لیڈز روڈ فیسٹیول کا دوسرا ایڈیشن اختتام پذیر ہوگیا، تاہم منتظمین کے مطابق اس کا بنیادی مقصد مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور لیڈز روڈ کے ثقافتی، کاروباری اور سماجی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔