سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے آج کی سماعت کے تحریری حکم میں کہا کہ قیدی کو جیل میں ہونے کے باوجود انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولتوں کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے بانی چیئرمین کے علاج کےلیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے تحریری حکم نامے میں میڈیکل بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن، آئی اسپیشلسٹ اور کارڈیالوجسٹ کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بانی پی ٹی آئی کے علاج میں شریک رہنے کی اجازت بھی دی۔
عدالت عظمیٰ کے تحریری حکم میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے اخراجات وہ یا ان کے اہلِ خانہ برداشت کریں گے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام سے شیئر کرنے پر پابندی ہوگی، اسپتال کے باہر کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوگا۔
عدالت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق معلومات سیاسی فائدے کےلیے استعمال نہیں کی جاسکیں گی، خلاف ورزی پر دی گئی سہولتیں فوری واپس لی جاسکتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے اہلِ خانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات کرانے اور بیٹوں سے ہفتے میں 2 بار ٹیلیفونک گفتگو کرانے کا حکم بھی دیا۔