ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وہ والدین جو روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت اپنے کم عمر بچوں کے سامنے موبائل فون پر اسکرولنگ میں گزارتے ہیں وہ ایسا کرکے اپنے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق والدین کا اسکرین ٹائم بچوں کی بولنے کی صلاحیت پر اس بات سے زیادہ اثر انداز ہوا کہ بچے خود کتنی دیر ڈیوائسز استعمال کرتے تھے۔ مزید یہ کہ پانچ سال کی عمر کے وہ بچے جن کے پاس ٹیبلٹ یا موبائل فون تھا، ان میں ان بچوں کے مقابلے میں زبان بولنے کی مہارت کم پائی گئی جن کے پاس ایسی ڈیوائسز نہیں تھیں۔
تاہم، بچوں کے اسکرین ٹائم اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کے درمیان جو فرق دیکھا گیا وہ سات سال کی عمر تک پہنچنے پر ختم ہو گیا۔
ناروے سے تعلق رکھنے والے محققین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس توجہ میں خلل ڈالنے والے آلات ہیں اور ان کا زیادہ استعمال والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ کم بات چیت کرنے والا بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے زبان سیکھنے کے زندگی کے اس اہم مرحلے میں بچوں کے ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق دماغ کی تقریباً 90 فیصد نشوونما پانچ سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں ناروے کی حکومت نے خبردار کیا تھا کہ ٹی وی کا حد سے زیادہ وقت بچوں کی بولنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا کہ دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔
یہ تحقیق جے اے ایم اے پیڈیاٹرکس نامی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں ناروے کے 747 بچوں کو تین سال تک (پانچ سال کی عمر سے ان کی آٹھویں سالگرہ تک) شامل کیا گیا۔ تحقیق کے آغاز میں والدین سے پوچھا گیا کہ ان کے بچے اوسطاً کتنے گھنٹے اسکرین دیکھنے میں گزارتے ہیں اور کیا ان کے پاس اپنا ٹیبلٹ یا موبائل فون ہے۔
والدین سے ان کے اپنے سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے اور انہیں اپنے فون میں ریکارڈ ہونے والا اسکرین ٹائم فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بچوں نے پانچ، چھ اور سات سال کی عمر میں ہر سال زبان کے ٹیسٹ دیے۔ ان ٹیسٹس میں یہ جانچا گیا کہ وہ کتنے الفاظ سمجھ سکتے ہیں اور گرامر کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔
محققین نے صرف ایک وقت کے نتائج کا موازنہ کرنے کے بجائے، وقت کے ساتھ بچوں کی زبان کی صلاحیت میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ اس طرح وہ ان بچوں میں فرق کر سکے جو ابتدا ہی سے زبان کی کمزور صلاحیت رکھتے تھے اور ان بچوں میں جن کی زبان کی نشوونما وقت کے ساتھ سست پڑ گئی تھی۔
گھریلو آمدنی اور والدین کی تعلیمی سطح سمیت ممکنہ طور پر اثرانداز ہونے والے دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد یونیورسٹی آف اوسلو کے محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ والدین کا زیادہ فون استعمال کرنا بچوں میں الفاظ کے ذخیرے کی نشوونما کی رفتار کم ہونے سے منسلک تھا۔