بھارتی سپریم کورٹ نے سزائے موت دینے کے لیے پھانسی کے بجائے زہریلا انجکشن، گولی مارنے یا دیگر متبادل طریقے اپنانے کی درخواست مسترد کر دی۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ فی الحال بھارت میں سزائے موت پر عمل درآمد کا طریقہ پھانسی ہی رہے گا۔
بھارتی عدالت نے اس معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کے 3 سابق فیصلوں کو بڑے بینچ کے سامنے بھیجنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست گزار وکیل رشی ملہوترا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پھانسی انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی طریقہ ہے، اس لیے سزائے موت پر عمل درآمد کے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن میں مجرم کو کم سے کم تکلیف ہو اور اس کی انسانی عزت برقرار رہے۔
درخواست میں زہریلا انجکشن، گولی مارنے، بجلی کی کرسی اور گیس چیمبر جیسے طریقوں کی تجویز دی گئی تھی، درخواست گزار نے پھانسی کے ذریعے سزائے موت کو غیر آئینی قرار دینے اور آئین کے تحت باوقار موت کے حق کو بنیادی حق تسلیم کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا کہ پھانسی کے بعد موت کی تصدیق میں تقریباً 40 منٹ لگ سکتے ہیں جبکہ گولی مارنے یا زہریلے انجکشن سے یہ عمل تقریباً 5 منٹ میں مکمل ہو سکتا ہے۔
درخواست گزار نے اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد اس طریقے سے ہونا چاہیے جس میں ممکنہ حد تک کم تکلیف ہو۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ فیصلہ اس معاملے پر آخری لفظ نہیں ہے، اگر مستقبل میں سائنسی، طبی یا تجرباتی شواہد سامنے آئے کہ پھانسی کے بجائے کسی دوسرے طریقے سے سزائے موت دینا زیادہ موزوں ہے تو معاملے کا دوبارہ آئینی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت چاہے تو ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کر کے سزائے موت پر عمل درآمد کے متبادل طریقوں کا جامع جائزہ لے سکتی ہے۔