انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ یعنی وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کا طریقہ وزن کم کرنے اور صحت بہتر بنانے کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، تاہم ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق بعض بڑے دعوے شواہد سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور بلڈ پریشر اور کولیسٹرول سمیت بعض میٹابولک عوامل میں بہتری لا سکتی ہے، تاہم مطالعات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ وزن کم کرنے کے دیگر مؤثر غذائی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ مؤثر ہے۔
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کیا ہے؟
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ ایک ایسا غذائی طریقہ ہے جس میں دن یا ہفتے کے مخصوص اوقات میں کھانے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ باقی وقت کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
اس کا ایک عام طریقہ 16 گھنٹے فاسٹنگ اور 8 گھنٹے کے دوران کھانا ہے، بعض طریقوں میں ہفتے کے مخصوص دنوں میں کیلوریز کی مقدار محدود کی جاتی ہے۔
یہ طریقہ عموماً وزن کو کنٹرول کرنے یا ممکنہ میٹابولک فوائد حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کو رمضان کے روزوں سے نہیں ملانا چاہیے، رمضان میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز بنیادی طور پر ایک مذہبی عبادت ہے، جس کا مقصد عبادت، خود احتسابی، ضبطِ نفس اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنا ہے۔
تحقیق کیا بتاتی ہے؟
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کو میٹابولزم بہتر بنانے، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کم کرنے، خلیوں کی مرمت کے عمل کو متحرک کرنے اور کینسر سمیت مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے دعوؤں کے شواہد اب بھی محدود ہیں۔
یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کی ماہرِ غذائیت کرسٹا وراڈی کے مطابق انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کوئی جادوئی طریقہ نہیں۔
ان کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طریقے سے وزن کم کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ دیگر مؤثر غذائی حکمتِ عملیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ثابت نہیں ہوئی۔
جانوروں پر تحقیق میں زیادہ نمایاں نتائج
فاسٹنگ سے متعلق ابتدائی تحقیق کا ایک بڑا حصہ چوہوں، مکھیوں اور کیڑوں جیسے جانوروں پر کیا گیا۔
کھانے کے بغیر رہنے کے دوران جسم توانائی کے لیے گلوکوز کے بجائے ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنا شروع کر سکتا ہے، فاسٹنگ سے آٹو فیجی نامی خلیاتی عمل بھی متحرک ہو سکتا ہے، جس میں پرانے یا خراب خلیاتی اجزاء ٹوٹ کر دوبارہ استعمال ہوتے ہیں۔
جانوروں پر ہونے والی بعض تحقیقات میں ان عوامل کو بہتر صحت اور طویل عمر سے جوڑا گیا، بعض تجربات میں ایک جیسی کیلوریز لینے والے چوہے اس وقت زیادہ صحت مند اور دبلا جسم رکھتے تھے جب انہیں مخصوص اوقات میں کھانا دیا گیا۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جانوروں پر سامنے آنے والے نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
5 فیصد وزن میں کمی
کرسٹا وراڈی کے مطابق انسانوں میں انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کی مختلف اقسام عموماً تقریباً 5 فیصد وزن میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔
تاہم یہ کمی دیگر مؤثر غذائی طریقوں سے حاصل ہونے والی وزن میں کمی کے تقریباً برابر ہے۔
وزن میں معمولی کمی بھی صحت کے بعض عوامل میں بہتری لا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کرنے والے افراد میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر سمیت بعض میٹابولک خطرات میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
کچھ مطالعات میں پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) سے وابستہ علامات میں بھی ممکنہ بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جن کی میٹابولک صحت پہلے ہی خراب تھی۔
ماہرین کے مطابق زیادہ سخت فاسٹنگ، مثلاً ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے کے طریقے سے جسم میں چربی کے ساتھ دبلا جسمانی وزن اور پٹھے بھی کم ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
کینسر اور دماغی صحت سے متعلق دعوے غیر یقینی
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کو دماغی صحت کے تحفظ اور کینسر کے خطرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے، تاہم محققین کے مطابق جانوروں پر ہونے والی تحقیق اور انسانوں پر کیے گئے طبی مطالعات کے نتائج کے درمیان اب بھی بڑا فرق موجود ہے۔
جانوروں پر تحقیق میں فاسٹنگ کو کینسر کے خلاف ممکنہ تحفظ اور کیمو تھراپی کے دوران صحت مند خلیوں کے تحفظ سے جوڑا گیا ہے، تاہم یہ فوائد انسانوں میں واضح طور پر ثابت نہیں ہوئے۔
ایک تحقیق میں یہ امکان سامنے آیا ہے کہ 5:2 فاسٹنگ طریقہ کیمو تھراپی لینے والی میٹاسٹیٹک بریسٹ کینسر کی بعض مریض خواتین کے لیے ممکنہ فوائد رکھتا ہے، جن میں معیارِ زندگی اور بیماری کے بڑھنے کی رفتار میں بہتری شامل ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور انہیں عمومی طبی مشورہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
تحقیق میں سب سے بڑا مسئلہ: لوگ کیا کھاتے ہیں؟
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ پر تحقیق کرنے میں سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ معلوم کرنا ہے کہ شرکاء حقیقت میں کیا اور کتنی مقدار میں کھاتے ہیں۔
جانوروں پر تجربات میں خوراک کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں انسانوں کی خوراک کی نگرانی کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
شرکاء سے اکثر کھانے کی ڈائری برقرار رکھنے کو کہا جاتا ہے، لیکن وہ بعض اوقات کھانے کی اشیاء درج کرنا بھول جاتے ہیں یا مقدار کم بتاتے ہیں۔
کرسٹا وراڈی کے مطابق ان کی تحقیق میں تقریباً نصف شرکاء مکمل غذائی ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔
2025ء میں ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کے تخمینے کے مطابق لوگ اپنی روزانہ خوراک کی مقدار کو تقریباً 400 سے 800 یا اس سے بھی زیادہ کیلوریز کم رپورٹ کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی تحقیق کو بہتر بنا سکتی ہے؟
محققین ایسی نئی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں جس سے لوگوں کو ہر کھانے کا دستی ریکارڈ رکھنے کی ضرورت نہ پڑے اور ان کی غذائی عادات کے بارے میں زیادہ درست معلومات حاصل ہو سکیں۔
بعض مطالعات میں شرکاء سے کھانے کی تصاویر لینے کو کہا جا رہا ہے، جبکہ دیگر تحقیقات میں عینک یا گلے میں پہنے جانے والے ایسے آلات آزمائے جا رہے ہیں جو کھانے اور چبانے کے عمل کو ریکارڈ کر سکتے ہیں۔
تاہم ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے رازداری کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے سائنس دان ایسی ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہے ہیں جو کیمروں کے بغیر کھانے کی نگرانی کر سکے، ان میں گردن پر پہننے والے ایسے آلات شامل ہیں جو چبانے کا عمل محسوس کر سکتے ہیں، اسمارٹ کانٹے جو کھانے کی حرکات کو ٹریک کرتے ہیں اور دانتوں پر لگائے جانے والے سینسرز جو خوراک کے مختلف اجزاء کی پیمائش کر سکتے ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر ٹیکنالوجیز ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔
خون اور یورین کے ٹیسٹ بھی مددگار ہو سکتے ہیں؟
خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بھی اس بات کا زیادہ درست اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ لوگ کون سے غذائی اجزاء استعمال کر رہے ہیں اور جسم انہیں کس طرح پروسیس کرتا ہے۔
ایبریسٹوِتھ یونیورسٹی کے ماہرِ غذائیت تھامس ولسن کے مطابق مستقبل کی تحقیقات میں غذائی ڈائریوں کے ساتھ خون اور پیشاب کے حیاتیاتی اشاریوں اور پہننے والے اسمارٹ آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
محققین کو امید ہے کہ ان طریقوں سے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو زیادہ تبدیل کیے بغیر خوراک کے بارے میں زیادہ قابلِ اعتماد معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔
کیا انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ واقعی کام کرتی ہے؟
موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ وزن کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے اور صحت کے بعض میٹابولک عوامل میں بہتری لا سکتی ہے، لیکن اسے غیر معمولی یا جادوئی غذائی طریقہ قرار دینے کے لیے فی الحال کافی شواہد موجود نہیں۔
غذا، جسمانی سرگرمی، نیند اور طرزِ زندگی کے دیگر عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث کسی ایک غذائی طریقے کے حقیقی اثرات کو الگ سے جانچنا مشکل رہتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔