امریکی ریاست ٹیکساس میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے: امریکی اخبار

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ریاست ٹیکساس میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مسلم کمیونٹی کو بڑھتے تعصب کا سامنا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فورٹ ورتھ سمیت مختلف علاقوں میں مسلم کمیونٹی اور مساجد کی تعداد نمایاں طور پر بڑھی ہے کہ حالیہ مہینوں میں مسلم کمیونٹی کے خلاف دھمکیوں اور توہین آمیز واقعات پیش آئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیوسٹن میں نئے اسلامی مرکز کو دہشت گردی کی دھمکی دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کے بعض ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے مسلم اداروں کے خلاف تحقیقات اور اسلامی رسومات پر پابندیوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکساس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 3 سے 5 لاکھ ہے، جبکہ ریپبلکن امیدوار بو فرینچ (Bo French) نے سوشل میڈیا پر انتہائی سخت مسلم مخالف بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہر مسلمان کے امریکا سے نکل جانے تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔

بو فرنچ کے بیان، ٹیکساس میں اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف بڑھتے ہوئے واقعات کو مسلم رہنماؤں نے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور دفاع پر زور دیا ہے۔