امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔
ان کارروائیوں کے تحت امریکا سے 4 ہزار 800 سے زائد بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے جبکہ امیگریشن حکام کی گرفتاریوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے نے گزشتہ ماہ ریکارڈ 51,000 افراد کو گرفتار کیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق ادارہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 2,000 گرفتاریاں کر رہا ہے جبکہ اگست کے پہلے ہفتے میں اوسطاً 4 ہزار 200 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال 3,567 بھارتی شہریوں کو امریکا سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا جو 16 سال کی مدت کی سب سے زیادہ تعداد تھی، رواں سال کی پہلی ششماہی میں ہی مزید 1,273 بھارتی شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔
بھارتی ایشیائی تارکینِ وطن میں سب سے زیادہ متاثر
امریکی تنظیم اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ کے مطابق جنوری 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران گرفتار کیے گئے 14 ہزار 402 ایشیائی باشندوں میں تقریباً 28 فیصد بھارتی تھے۔
اسی عرصے میں 6,218 ایشیائی افراد کو ملک بدر کیا گیا جن میں بھارتی شہریوں کا حصہ بھی تقریباً 28 فیصد رہا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار میں بھی بھارتی باشندے ایشیائی اور بحرالکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد میں گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعات میں طویل عرصے سے امریکا میں مستقل رہائش رکھنے والی بھارتی شہری وینکاٹا واسام سیٹی بھی شامل ہیں جنہیں گرین کارڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، بھارتی خاتون 2013ء سے امریکا کی قانونی مستقل رہائشی ہیں اور ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی پہلے عدالت میں مسترد ہو چکی تھی، اسی طرح جاز موسیقار پریتیش والیا کو بھی گرفتار کیا گیا تاہم انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
بجلی کا جھٹکا دینے والے دستانوں پر بحث میں اضافہ
امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے امیگریشن اہلکاروں کے لیے ایسے دستانے خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جو انسانی جسم سے رابطے پر کم وولٹیج کا بجلی کا جھٹکا دے سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض سابق امیگریشن حکام نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا ہدف سالانہ 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کرنا ہے تاہم امیگریشن ادارے کے مطابق 2025ء میں تقریباً 4 لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا۔
امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مزید 30 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن ملک چھوڑ چکے ہیں جن میں تقریباً 22 لاکھ افراد کی رضاکارانہ واپسی بھی شامل ہے۔