بھارتی شہر بھوپال میں شادی کے چند ماہ بعد 2 مہینے کی حاملہ خاتون توئشا شرما کی خودکشی کے کیس میں سی بی آئی نے توئشا کے شوہر اور ساس کے خلاف چارج شیٹ جاری کردی۔
31 سالہ توئشا شرما 12 مئی کو بھوپال کے علاقے کٹارا ہلز میں اپنے سسرال میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔ اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے جہیز کے لیے ہراساں کیا جاتا تھا اور قتل کیا گیا۔
توئشا اور سمارتھ سنگھ نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، دونوں کی ملاقات 2024 میں ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی تھی جبکہ شادی دسمبر 2025 میں ہوئی تھی۔
اس حوالے سے بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) کی چارج شیٹ میں توئشا شرما کے شوہر سمرتھ سنگھ اور ساس گیری بالا سنگھ پر مسلسل ذہنی تشدد اور خودکشی پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سی بی آئی نے 14 اگست کو 30 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کروائی۔
چارج شیٹ کے مطابق موت سے چند گھنٹے قبل توئشا نے اپنی بھابھی کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا کہ وہ اسے پرسکون حالت میں مرنے دے۔ اس کے چند منٹ بعد سی سی ٹی وی میں توئشا کو گھر کی چھت کی جانب جاتے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رات 9 بج کر 41 منٹ پر توئشا نے اپنے والد کو فون کیا۔ وہ رو رہی تھیں اور مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے شوہر کا رویہ انتہائی جارحانہ اور پرتشدد ہوگیا ہے اور وہ خوفزدہ ہے۔ اس نے والدین سے فوری طور پر اپنے پاس آنے کی درخواست کی۔ بعد ازاں توئشا نے اپنی والدہ سے بھی فون پر بات کی، تاہم رابطہ منقطع ہوگیا۔
چارج شیٹ کے مطابق تقریباً رات 10 بج کر 23 منٹ پر سمرتھ سنگھ اور ان کی والدہ کو سی سی ٹی وی میں چھت کی جانب جاتے دیکھا گیا۔ توئشا کو بعد میں نیچے لایا گیا اور اے آئی آئی ایم ایس بھوپال منتقل کیا گیا، جہاں رات تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
سی بی آئی کے مطابق توئشا کی شادی سمرتھ سنگھ سے دسمبر 2025 میں ہوئی تھی اور شادی کے بعد مبینہ طور پر اسے ذہنی اذیت کا سامنا رہا۔ تحقیقاتی ادارے کا الزام ہے کہ شوہر اس کے ماضی کے تعلقات پر توہین آمیز زبان استعمال کرتا تھا جبکہ ساس مبینہ طور پر بیٹے کا ساتھ دیتی اور توئشا کی شکایات کو نظر انداز کرتی تھیں۔
چارج شیٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ توئشا کے ڈی میٹ اکاؤنٹ میں تقریباً 20 لاکھ بھارتی روپے کے شیئرز موجود تھے اور مبینہ طور پر شوہر اور ساس ان پر یہ سرمایہ مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ جس پر توئشا نے یہ رقم منتقل کرنے سے انکار کیا تھا کیونکہ اس کے مطابق یہ رقم اس کے والد کی تھی۔
چارج شیٹ میں توئشا کے متعدد واٹس ایپ پیغامات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں اس نے اپنی زندگی کو جہنم قرار دیتے ہوئے والدہ سے اسے وہاں سے لے جانے کی درخواست کی تھی۔ ایک اور موقع پر اس نے لکھا کہ اسے گھر میں گھٹن محسوس ہورہی ہے اور وہ اس رشتے میں اپنا کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہیں۔
سی بی آئی کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی توئشا نے والدہ سے شکایت کی تھی کہ اسے اس کے مزاج اور مبینہ منشیات کے استعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے، جبکہ اس کے مطابق شوہر کی جانب سے جذباتی طور پر اسے نظر انداز کیے جانے کو تسلیم نہیں کیا جارہا تھا۔
توئشا کی موت کے بعد پہلے پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ پھانسی کے باعث دم گھٹنا قرار دی گئی تھی۔ اہل خانہ کی جانب سے رپورٹ پر اعتراض کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر اے آئی آئی ایم ایس دہلی کے میڈیکل بورڈ نے دوسرا پوسٹ مارٹم کیا۔
رپورٹ میں بھی موت کی وجہ پھانسی کے باعث دم گھٹنا اور موت کی نوعیت خودکشی قرار دی گئی، جبکہ جسم پر حملے سے متعلق کوئی اہم چوٹ نہیں پائی گئی۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کا مؤقف یہ نہیں کہ توئشا کو جسمانی طور پر قتل کیا گیا، بلکہ الزام ہے کہ مسلسل ذہنی تشدد نے اسے خودکشی پر مجبور کیا۔ فرانزک نفسیاتی جائزے میں بھی مبینہ طور پر توئشا میں مایوسی، مسلسل ذہنی اذیت اور عدم تعاون کے آثار پائے گئے۔