غزہ پر حملے روکنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل سے مطالبہ قابل تحسین ہے، حماس

خلیل الحیہ : فوٹو رائٹرز

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ غزہ پر حملے روکنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل سے مطالبہ قابل تحسین ہے، غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ کے اقدامات کو سراہتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی نمائندے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

قاہرہ میں جیرڈ کشنر سے ہونے والی حالیہ ملاقات خلیل الحیہ کی ان سے دوسری ملاقات ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں الحیہ نے کشنر اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مذاکرات میں حماس کے وفد کی قیادت کی تھی، جن کے نتیجے میں جنگ بندی اور 2023 میں حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

خلیل الحیہ کو جولائی 2026 میں حماس کا مجموعی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 2025 میں قطر پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں بال بال بچ گئے تھے، تاہم حملے میں ان کے بیٹے اور دیگر معاونین شہید ہوگئے تھے۔

حماس اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات واشنگٹن کی سابقہ پالیسی سے مختلف پیش رفت ہیں، کیونکہ امریکا طویل عرصے سے حماس سے براہ راست رابطے سے گریز کرتا رہا ہے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

خلیل الحیہ 2024 میں یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس کے امور چلانے والی پانچ رکنی کونسل کا حصہ بھی رہے۔ ان کی قیادت میں حماس نے جولائی میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ منصوبے کے تحت اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اسرائیل کے مکمل انخلا سے اسے جوڑ دیا گیا۔

حماس نے ’غیر مسلح ہونے‘ کی اصطلاح مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیار امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کی نگرانی میں رکھے جائیں گے۔

خلیل الحیہ 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس کے قیام سے قبل جس اخوان المسلمون تحریک سے یہ تنظیم ابھری، اس میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ حماس میں یحییٰ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کے ساتھ آگے بڑھے اور بعد ازاں غزہ کے لیے السنوار کے نائب کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

الحیہ 2021 میں غزہ چھوڑ کر قطر منتقل ہوگئے تھے، جہاں سے وہ عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ حماس کے رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے کئی ادوار میں بھی وہ شامل رہے۔

حماس کے مطابق تنظیم نے جولائی میں امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت ہتھیار امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک غزہ سے انخلا نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا، جبکہ اسرائیلی جوابی کارروائی میں غزہ کی صحت حکام کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے۔