روزانہ پانچ کپ کافی پینا پیٹ کی خطرناک چربی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تحقیق

فن لینڈ کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پینا پیٹ کی خطرناک اندرونی چربی کو کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، اس سے ذیابیطس، دل کی بیماریوں حتیٰ کہ کینسر کے خطرے میں بھی کمی آسکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق جو لوگ پانچ کپ کافی روزانہ پیتے ہیں، ان میں کم کافی پینے والوں کے مقابلے میں پیٹ کی چربی کم اور پٹھوں کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، حالانکہ دونوں گروہوں کا مجموعی وزن تقریباً یکساں ہوتا ہے۔

کمر کے گرد جس چربی کو آپ ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں، اس کے برعکس ویسیرل چربی اندرونی اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے اور ایسے نقصان دہ کیمیکلز خارج کرتی ہے جو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ دل کی بیماری، ٹائپ 2 ذیابیطس، الزائمر اور کئی اقسام کے کینسر، جن میں جگر، آنتوں اور معدے کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

کافی کو پہلے بھی دل کی بیماری کے کم خطرے سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ لیکن اب محققین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینا مجموعی جسمانی ساخت کو زیادہ صحت مند بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ 

اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف اولو کے ڈاکٹریٹ کے محقق لوکا ویروئسٹ نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں، لیکن اس کے ہمارے میٹابولزم اور ہارمونز سے تعلق کے بارے میں ہم اب بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم جانتے ہیں۔

یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونیوالی اس تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناردرن فن لینڈ برتھ کوہورٹ 1966 کے 2,264 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ ان تمام شرکاء کی عمر 46 سال تھی۔

شرکاء کو روزانہ اوسطاً استعمال کی جانے والی کافی کی مقدار کے مطابق چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں کافی نہ پینے والے افراد سے لے کر روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پینے والے افراد شامل تھے۔

جس کے بعد سائنسدانوں نے شرکاء کے وزن، باڈی ماس انڈیکس، کمر کے حجم، جسم میں چربی کی شرح، پٹھوں کی مقدار اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا۔ خون کے نمونے بھی لیے گئے تاکہ کولیسٹرول اور انسولین کی سطح کی پیمائش کی جا سکے، ساتھ ہی ٹیسٹوسٹیرون جیسے جنسی ہارمونز کی بھی جانچ کی گئی۔

جس سے یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ سب سے زیادہ کافی پیتے تھے، ان کے جسم میں چربی کی شرح سب سے کم، یعنی تقریباً 27 فیصد جبکہ جو لوگ کافی بالکل نہیں پیتے تھے، ان میں جسم کی چربی تقریباً 29 فیصد تھی۔

جو لوگ روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پیتے تھے، ان کے جسم میں اندرونی پیٹ کی چربی بھی کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم تھی اور ان کا مسلز ماس بھی سب سے زیادہ تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایم آئی تمام گروپس میں تقریباً یکساں تھا، اس کے باوجود باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد کے جسم میں چربی کم اور مسلز زیادہ تھے۔ جبکہ زیادہ مقدار میں کافی پینا نقصان دہ پایا گیا۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Related posts

ضلع باغ کی 2 میں ایک نشست ن لیگ، دوسری پیپلز پارٹی نے جیت لی

بائیڈن دور کی پریس سیکریٹری کے ٹرمپ دور کی پریس سیکریٹری پر الزامات، تنقید

مجھے محسوس ہورہا تھا میں مرنے والی ہوں، منیشا نے کینسر کو انتہائی خوفناک احساس قرار دیدیا