سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ کا دفاعی معاہدہ بھارت کیلئے دردسر بن گیا: بھارتی میڈیا

—فائل فوٹو 

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھارت کے لیے ایک نیا سر درد اور علاقائی اسٹریٹجک تشویش بن گیا، معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی پر شائع کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے 4 جولائی 2025ء کو کہا تھا کہ مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران بھارت کو ایک ہی محاذ پر بیک وقت 3 مخالف قوتوں کا سامنا تھا۔

بھارتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان براہِ راست بھارت کا جنگی فریق تھا، چین نے پاکستان کو سیٹلائٹ معلومات فراہم کیں جبکہ ترکیہ نے پاکستان کو جنگی اور خودکش ڈرونز سمیت عسکری معاونت فراہم کی۔

اب سعودی عرب کے اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونے سے بھارت کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مسلح تنازع کی صورت میں سعودی عرب بھی معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔

بھارتی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بھارت اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات کے باوجود سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کو فوقیت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے کو خالصتاً دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے تاہم نئی دہلی سعودی عرب کی اس پیش رفت سے ناخوش ہے۔

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تیل، تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی اور ثقافتی شعبوں میں قریبی اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 43 ارب ڈالرز ہے جبکہ سعودی عرب بھارت کی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 14 فیصد فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، پاکستان نے سعودی عرب کو فوجی تربیت اور دفاعی معاونت فراہم کی ہے جبکہ مختلف ادوار میں پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں تعینات بھی رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2026ء کے دوران پاکستان نے تقریباً 8,000 فوجی اہلکار اور 16 جے ایف 17 جنگی طیارے سعودی عرب بھیجے، بعض رپورٹس میں ڈرون اسکواڈرنز اور چینی ساختہ فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب کو ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کا سامنا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کئی دہائیوں سے پاکستان کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، 2018ء سے ریاض نے پاکستان کو اربوں ڈالرز کے مالی ذخائر، قرضوں اور مؤخر ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جس سے پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملی۔

بھارتی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی تعلقات بھی تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں، پاکستان نے ترکیہ سے جدید جنگی ڈرونز، جنگی بحری جہاز اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔

پاکستان نے ترکیہ سے 4 میلجم کلاس جنگی بحری جہاز حاصل کیے ہیں جن میں آخری جہاز اگست 2023ء میں پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا، ترکیہ نے پاکستان کی اگوسٹا 90 بی آبدوزوں کی جدید کاری میں بھی معاونت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ترکیہ سے بیرقدار اَکنجی جنگی ڈرونز بھی حاصل کیے جبکہ دونوں ممالک مقامی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں۔

ترکیہ کے جدید کان جنگی طیارے (KAAN stealth jet) کی پہلی پرواز 21 فروری 2024ء کو ہوئی تھی، پاکستان اس طیارے کا ممکنہ خریدار سمجھا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، دوسری جانب پاکستان کی چین کے جے 35 اے لڑاکا طیارے میں دلچسپی زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے ڈرونز استعمال کیے جانے کے بعد بھارت نے ترکیہ کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں، بھارتی حکام نے ترکیہ کی ایک فضائی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کی سیکیورٹی منظوری منسوخ کی جبکہ بعض بھارتی تجارتی پلیٹ فارمز نے ترک مصنوعات کو بھی ہٹا دیا، ترکیہ کے لیے بھارتی سیاحت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

بھارت کے لیے اصل تشویش کیا ہے؟

بھارتی میڈیا پر شائع تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے مکہ دفاعی معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے جس کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حاکان فیدان کا یہ بیان بھارت کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث بنا ہے تاہم موجودہ صورتِ حال میں مکہ معاہدہ ابھی نیٹو جیسا مکمل فوجی اتحاد نہیں ہے، اس میں مشترکہ فوجی کمان اور اجتماعی کارروائی کے واضح طریقۂ کار یا مخصوص محرکات موجود نہیں ہیں۔

بھارتی تجزیے کے مطابق یہ معاہدہ فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی کردار میں ممکنہ کمی کے مقابلے میں ایک علاقائی دفاعی بندوبست اور سیاسی اتحاد کا اشارہ زیادہ دکھائی دیتا ہے تاہم اگر معاہدہ عملی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو پاکستان کے ساتھ کسی مستقبل کے فوجی تنازع میں بھارت کے لیے سفارتی اور عسکری حساب کتاب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو سکتا ہے۔

Related posts

وٹامن بی 12 کی کمی بے چینی و گھبراہٹ کا سبب بن سکتی ہے: رپورٹ میں انکشاف

ایس ایس پی کا جائے وقوع کا دورہ، اہلِخانہ بھی ہمراہ موجود

کینیڈا میں امریکی قونصل خانے کو بم سے اڑانے کی دھمکی