پاکستانی ٹیلی ویژن کے معروف اداکار اور ہدایت کار شہود علوی ایک بار پھر اپنی گفتگو کے باعث سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئے۔
اداکار نے شوبز کیریئر کا آغاز اپنے ماموں اقبال انصاری کے ہمراہ پی ٹی وی میں بوم آپریٹر کے طور پر کیا، بعد ازاں اداکاری کا رخ کیا اور اپنی منفرد پرفارمنس کے باعث نمایاں مقام بنایا۔
شہود علوی متعدد مقبول ڈراموں میں اداکاری کر چکے ہیں، وہ صائمہ شہود کے شوہر ہیں اور ان کی 3 بیٹیاں عریبہ، سجل اور اریجا ہیں، جو اب شادی شدہ ہیں۔
شہود علوی اکثر مارننگ شو میں شرکت کرتے ہیں، بالخصوص جب شو میں میاں بیوی کے تعلقات اور ازدواجی زندگی سے متعلق گفتگو ہو۔
حالیہ پروگرام میں وہ اداکاراؤں لیلیٰ زبیری اور فریحہ اعوان کے ہمراہ شریک ہوئے، جہاں انہوں نے گھریلو خواتین کے حوالے سے بعض ایسے تبصرے کیے جن پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بحث شروع ہو گئی۔
میاں بیوی کے درمیان شوہر کی دلچسپی کم ہونے کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے شہود علوی نے کہا کہ جو خواتین زیادہ تر گھر میں رہتی ہیں، ان کے جسم اور کپڑوں سے کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے ادرک اور لہسن کی بو آتی ہے، جبکہ دفتر میں مردوں کا واسطہ خوشبو لگانے والی خواتین سے پڑتا ہے۔
اداکار نے کہا کہ بیوی سے ادرک اور لہسن کی بو آئے گی تو کون انہیں دیکھے گا؟ دفتر میں لڑکیاں پرفیوم لگا کر بیٹھی ہوتی ہیں۔
شہود علوی نے اس دوران خواتین کے لیے تھراپی کے مشورے پر بھی ایک ایسا جملہ کہہ دیا جسے سوشل میڈیا صارفین نے ان کی ’زبان کی پھسلن‘ قرار دیا۔
فریحہ اعوان نے ازدواجی مسائل کی صورت میں تھراپی لینے کا مشورہ دیا تو شہود علوی نے کہا کہ اگر تھراپسٹ آپ کی بیوی کو لے کر بھاگ گیا تو؟ سائیکاٹرسٹ کے پاس مت بھیجنا، اگر وہ بیوی کو لے کر بھاگ گیا تو؟
گفتگو کے دوران شہود علوی نے کہا کہ اگر شوہر ضرورت سے زیادہ وقت موبائل فون پر گزار رہا ہو تو یہ مثبت علامت نہیں، خواتین کو بھی شوہروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اضافی کوشش کرنی چاہیے، جس میں شوہر کی پسند کا کھانا تیار کرنا اور ان کے گھر واپس آنے سے قبل تیار ہونا شامل ہے۔
اداکارہ لیلیٰ زبیری نے بھی اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شوہر کے لیے تیار ہونا روایتی طور پر ایک مثبت عمل سمجھا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ والد کے گھر آنے سے قبل لپ اسٹک لگایا کرتی تھیں۔
فریحہ اعوان نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ خواتین اپنے شوہروں کے گھر آنے سے پہلے خود کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے اضافی کوشش کر سکتی ہیں۔
شہود علوی نے اپنی ازدواجی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو بلوں کی ادائیگی، سودا سلف لانے اور گاڑی چلانے سمیت مختلف کام سکھانے کی کوشش کی، تاہم اہلیہ نے یہ کام نہیں سیکھے، اداکار نے مزاحیہ انداز میں اپنی اہلیہ کو ’ڈھیٹ ہڈی‘ بھی قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اداکارہ بشریٰ انصاری نے اہلیہ کو گاڑی چلانا سیکھنے سے منع کیا تھا، بشریٰ انصاری کا خیال تھا کہ اگر گھریلو خواتین گاڑی چلانا سیکھ لیں تو ان کی ذمے داریاں مزید بڑھ سکتی ہیں، جیسے بچوں کو اسکول چھوڑنا اور واپس لانا۔
شہود علوی کے ان تبصروں کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، جہاں کچھ افراد ان کے اندازِ گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ بعض صارفین نے اسے مارننگ شو میں ہونے والی ایک غیر رسمی گفتگو قرار دیا ہے۔