متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر دبئی میں مقیم ایک بھارتی نژاد برطانوی خاتون نے دبئی کے نظام صحت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔
دبئی میں مقیم میروتولا سیواکمار نامی خاتون نے اپنی ٹانگ زخمی ہونے کے بعد مقامی اسپتال کا دورہ کیا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے تیز رفتار علاج کے تجربے کی ویڈیو شیئر کی، جسے دبئی کے شائقین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بےحد پسند کیا جا رہا ہے۔
خاتون نے انسٹاگرام ویڈیو میں بتایا، ’میری ٹانگ پر چوٹ آئی تو میں اسپتال گئی۔ ڈاکٹر سے مشورہ اور معائنہ کرنے میں صرف 5 منٹ لگے اور پلاستر چڑھانے اور ادویات ملنے تک کا پورا عمل محض ایک گھنٹے میں مکمل ہوگیا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عملے نے میری ضرورت کا اتنا خیال رکھا کہ فلیٹ فیٹ کا جائزہ لے کر اسی حساب سے پلاستر لگایا۔ اسپتال نے انہیں تمام طبی معلومات اور رپورٹس کی سی ڈی (CD) بھی فراہم کی تاکہ وہ ضرورت پڑنے پر کسی دوسرے اسپتال کو دکھا سکیں۔
انہوں نے برطانیہ کے ماضی کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے سیواکمار نے کہا، ’مجھے یاد ہے کہ برطانیہ کے اسپتال کی ایمرجنسی میں صرف ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے مجھے 6 گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا۔ میں واقعی خوش قسمت ہوں کہ میں دبئی کو اپنا گھر کہتی ہوں، یہاں کا طبی نظام بہترین ہے۔‘
انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا، ’اس شہر نے مجھے 20 سے زائد سالوں سے لاڈلا بنا رکھا ہے اور میں اسے اپنا گھر کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہوں۔‘
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنے اپنے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’یو اے ای کی میزبانی اور سروسز کا مقابلہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا۔‘
ایک اور صارف نے برطانیہ کے ہیلتھ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یوکے کا سسٹم کافی سست ہے جبکہ برطانیہ کے لوگ اسے دنیا کا بہترین سسٹم سمجھتے ہیں۔