متحدہ عرب امارات نے جرائم پیشہ سرغنہ ڈینیئل کیناہن کو آئرلینڈ کے حوالے کردیا

فوٹو: برطانوی میڈیا 

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے مبینہ جرائم پیشہ سرغنہ ڈینیئل کیناہن کو آئرلینڈ کے حوالے کردیا۔

یو اے ای نے آئرلینڈ کے مطلوب مفرور ڈینیئل کیناہن کو گرفتار کرنے کے بعد آئرش حکام کے حوالے کردیا۔ کیناہن کو آئرلینڈ کی بدنام زمانہ ’کیناہن ٹرانس نیشنل کرمنل آرگنائزیشن‘ کے اہم سرغنہ میں شمار کیا جاتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ڈینیئل کیناہن کو قتل اور منشیات اسمگلنگ سمیت سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، کیناہن کی حوالگی متحدہ عرب امارات اور آئرلینڈ کے درمیان موجود معاہدے کے تحت عمل میں آئی۔

کیناہن کو اس سے قبل دبئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکا نے 2022 میں اسے کیناہن منظم جرائم گروپ کے تین اہم رہنماؤں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کی گرفتاری میں مدد دینے پر ’50 لاکھ ڈالر انعام‘ کا اعلان کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور آئرلینڈ کے وزرائے انصاف نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈینیئل کیناہن کی حوالگی دونوں ممالک کے قانون کی حکمرانی کے مشترکہ عزم اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف عدالتی تعاون کی اعلیٰ سطح کی عکاسی کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد انصاف سے بچنے کے لیے کسی ملک کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کرسکتے۔

دونوں وزرا نے خطرناک جرائم پیشہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

آئرلینڈ کے وزیر انصاف نے حوالگی کے عمل میں متحدہ عرب امارات کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے اماراتی عدالتی حکام کی کارکردگی کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف کارروائی میں دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈینیئل کیناہن کا جرائم کی دنیا سے تعلق اس کے والد ’کرسٹوفر ونسنٹ کیناہن‘ کے ذریعے قائم ہوا، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں ڈبلن میں کیناہن ٹرانس نیشنل کرمنل آرگنائزیشن قائم کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کرسٹوفر کیناہن نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی جرائم پیشہ تنظیم میں شامل کیا۔ یہ گروہ جنوبی امریکا سے کوکین اور ہیروئن آئرلینڈ پہنچانے اور اسے بین الاقوامی سطح پر تقسیم کرنے میں ملوث رہا۔

بعدازاں تنظیم نے برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک تک اپنا نیٹ ورک پھیلا لیا۔ منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ کیناہن گروپ پر منی لانڈرنگ، اسلحے کی اسمگلنگ اور قتل میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

2016 میں ڈبلن کے ایک ہوٹل میں حریف جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ فائرنگ کے واقعے کے بعد ڈینیئل کیناہن اپنی جان کو لاحق خطرے کے باعث دبئی منتقل ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اس سے قبل بھی مختلف ممالک کے مطلوب افراد کی گرفتاری اور حوالگی میں تعاون کرتا رہا ہے، رواں سال مئی میں امارات نے کویت میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سزا یافتہ ایک مفرور کو کویتی حکام کے حوالے کرنے میں مدد کی تھی۔

اسی ماہ بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی نے بھی متحدہ عرب امارات سے دو مطلوب مفرور افراد کی حوالگی کے بعد ان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، ان میں کملیش پاریکھ بھی شامل تھا، جو کولکتہ کی ایک کمپنی سے متعلق بڑے بینک فراڈ کیس میں مطلوب تھا۔

جون میں بیلجیئم کے حکام کو منی لانڈرنگ، منشیات اسمگلنگ اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے روابط کے الزامات میں مطلوب تین افراد بھی متحدہ عرب امارات سے بیلجیئم کے حوالے کیے گئے۔

متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل روس کے ساتھ بھی مطلوب افراد کی گرفتاری میں تعاون کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک موقع پر روسی فوجی انٹیلی جنس افسر پر فائرنگ کے شبہ میں مطلوب شخص کی گرفتاری میں تعاون پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں اماراتی حکام نے ایکواڈور کے شہری ’روبرٹو کارلوس الواریز ویرا‘ کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی تھی، جو انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر مطلوب تھا اور ایک سرحد پار جرائم پیشہ گروہ کی قیادت کے الزامات کا سامنا کر رہا تھا۔

Related posts

میر رضا کے پھیپھڑے تیزاب سے شدید متاثر، کسی اور کے پسینے کے نشان بھی ملنے کا انکشاف

چین میں سمندری طوفان ڈولفن کمزور، بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری

جولائی میں 3.6 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اظہارِ اطمینان