امریکی عدالت نے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے پر ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پر 567 ملین ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور انہیں انٹرنیٹ کے خطرات سے صحیح طرح نہ بچانے کے جرم میں سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا کو 567 ملین ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز میں اہم تبدیلیاں کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے کی ذمے دار ہے اور اس نے اپنی ایپس کے ذریعے بچوں کی زندگیوں پر برا اثر ڈالا ہے۔
عدالت کے نئے حکم کے مطابق جرمانے رقم میں سے 420 ملین ڈالرز بچوں کے علاج اور ان کی دیکھ بھال کی سہولتوں پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ باقی رقم اگلے 5 سال میں بیماریوں سے بچاؤ، آگاہی مہمات اور جانچ پڑتال کے پروگراموں پر خرچ ہو گی۔
اس کے علاوہ عدالت نے کمپنی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے ایپ پر نئی پابندیاں اور اقدامات شامل کرے۔
دوسری طرف میٹا کمپنی نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ مقدمہ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے دائر کیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ میٹا نے اپنے کاروباری مفادات کو بچوں کی حفاظت پر ترجیح دی، جس کے باعث نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔