بغیر انشورنس گاڑیاں چلانے کے رجحان میں تشویشناک اضافہ

—فائل فوٹو

برطانیہ میں بغیر انشورنس گاڑیاں چلانے کے رجحان میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کے دوران ملک بھر میں 1 لاکھ 60 ہزار گاڑیاں انشورنس نہ ہونے کی وجہ سے ضبط کی گئیں، جو گزشتہ 17 برس میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ماہرین کے مطابق بغیر انشورنس گاڑیاں چلانے کی وجہ سے برطانیہ کی معیشت کو ہر سال تقریباً 1 ارب پاؤنڈ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

 اس نقصان میں ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو ادا کیے جانے والے معاوضے، ایمرجنسی سروسز کے اخراجات، طبی علاج، پولیس کارروائیاں اور دیگر انتظامی اخراجات شامل ہیں۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر انشورنس گاڑی چلانے والوں میں برمنگھم کے بعض پوسٹ کوڈز سرِفہرست ہیں، جبکہ ایسیکس، پیٹربرا اور مانچسٹر کے چند علاقے بھی اس فہرست میں نمایاں ہیں۔

 پولیس اور متعلقہ ادارے ان علاقوں میں خصوصی مہمات کے ذریعے ایسے ڈرائیوروں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں اپریل 2026ء میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے ایک ہی کارروائی کے دوران بغیر انشورنس چلائی جانے والی 16 گاڑیاں ضبط کیں، جن میں ایک قیمتی لیمبورگینی بھی شامل تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور مہنگی یا لگژری گاڑی ہونے سے کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں۔

حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض ڈرائیور جان بوجھ کر قانون شکنی نہیں کرتے بلکہ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی گاڑی کی انشورنس کی مدت ختم ہو چکی ہے یا پالیسی کسی وجہ سے منسوخ ہو گئی ہے، اسی لیے موٹر گاڑی رکھنے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی انشورنس کی مدت باقاعدگی سے چیک کریں اور تجدید بروقت کرائیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت بھی برطانیہ کی سڑکوں پر تقریباً 3 لاکھ گاڑیاں بغیر انشورنس کے چل رہی ہیں، جو ناصرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے بھی سنگین مالی اور جانی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ 

پولیس نے خبردار کیا ہے کہ بغیر انشورنس گاڑی چلانے والوں کو گاڑی ضبط ہونے، بھاری جرمانے، ڈرائیونگ لائسنس پر پینلٹی پوائنٹس، عدالت میں مقدمے اور بعض صورتوں میں ڈرائیونگ پر پابندی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Related posts

برطانوی چینل عبور کرنیوالی کشتی میں آگ، 170 سے زائد تارکینِ وطن ریسکیو

نیب کو وہ معاملات دیکھنےچاہئیں جن میں قوم کا نقصان ہو رہا ہے، فاروق نائیک

کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین پروفیسر جیسن آرڈے نے تحقیقی مقالوں کی چوری کے الزام پر استعفیٰ دیدیا