بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ قیدِ تنہائی میں نہیں، بہترین سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ پٹیشنرز کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے۔ 

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے عدالت کو بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی عدالت میں موجود ہیں اور ان کی جانب سے رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے۔ 

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی کی وجہ سے پٹیشنر کو دیگر قیدیوں سے ملنے نہیں دیا جاتا جسے یہ قید تنہائی کہتے ہیں۔ 

جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے کہا کہ قیدِ تنہائی میں قیدی کو چوبیس گھنٹے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسی صورتحال نہیں۔ انہیں سات سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت حاصل ہے جبکہ ایک سزا یافتہ مشقتی بھی مستقل بانی پی ٹی آئی کے ساتھ موجود رہتا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹی وی، اخبارات اور کتب کی سہولت حاصل ہے۔ ایک اردو اور ایک انگلش اخبار باقاعدگی سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 5 سو سے زائد کتب بھی فراہم کی گئی ہیں۔ نو کتابیں تو حال ہی میں دی گئی ہیں۔

 بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر وہ بطور فرینڈ آف دی کورٹ بانی پی ٹی آئی سے ملے اور ملاقات کے دوران ان کی بینائی متاثر نظر آئی۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ فوڈ، سیکیورٹی، واش روم سے مطمئن ہیں، صرف بینائی بچا لیں۔ 

سلمان صفدر کے مطابق انہیں سات ماہ تک اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد اپریل میں صرف 65 منٹ کی ملاقات ممکن ہوئی، جس میں سے 60 منٹ بانی پی ٹی آئی نے ذہنی اذیت اور ملاقاتوں پر پابندی کی شکایت کی۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ان کی قید تنہائی 22 اور بشریٰ بی بی کی 24 گھنٹے کی ہے۔ ٹی وی ہے مگر اس پر کوئی چینل نہیں آتا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی 68 سالہ بہن علیمہ خانم کو 38 بار اڈیالہ جیل جانے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ سے ان کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو بھی نہیں کرائی گئی۔ سائیکالوجیکل ٹارچر جسمانی تشدد سے زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ 

سلمان صفدر نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ تو تصدیق کر رہی ہے کہ بانی قیدِ تنہائی میں ہیں۔ عدالت دونوں قیدیوں کو عدالت میں طلب کر کے قیدِ تنہائی سے متعلق معلوم کرے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تین وکلاء پر مشتمل ایک پینل بنایا جائے جو جیل جا کر تعین کرے کہ دونوں قیدیوں کے کیا حالات ہیں۔ بانی کی ہفتے میں ایک دفعہ اپنے دونوں بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کا بیان حلفی لیا جائے۔ 

وکیل نے کہا کہ ججز خود بھی جیل جاتے ہیں آپ نے خود کہا کہ سندھ میں آپ نے جیل کا دورہ کیا۔ یہ سابق وزیراعظم اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا معاملہ ہے۔ جسٹس سومرو نے کہا میں ضرور چلا جاتا لیکن میں میرپور خاص میں سینئر جج تھا اور سینئر جج دورہ کرتا ہے۔ 

علیمہ خانم نے لقمہ دیا جج صاحب خود چلے جائیں کیا ہو گیا؟ 

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد انہیں تحریری گزارشات اور عدالتی حوالہ جات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

Related posts

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے نئے صوبوں کی حمایت کردی

حوثی باغیوں کے یمنی فورسز پر حملے، 45 افراد ہلاک ہوگئے

ملکی زرمبادلہ ذخائر میں سوا تین کروڑ ڈالر کا اضافہ، اسٹیٹ بینک