برطانوی حکومت کی جانب سے بغیر کسی سوال جواب کے خطرناک اسلحہ اور چھریاں جمع کروانے کے لیے قائم ’سرینڈر بِنز‘ میں گزشتہ برس جولائی سے اب تک تقریباً 15 ہزار ہتھیار جمع کروائے جا چکے ہیں جن میں زومبی طرز کی چھریاں، کچن نائف اور تلوار نما چھریاں بھی شامل ہیں۔
ہوم آفس کی اسکیم کے تحت لندن، گریٹر مانچسٹر اور ویسٹ مڈلینڈز میں 36 سرینڈر بِنز نصب کیے گئے تھے جبکہ جنوبی اور مغربی یارکشائر کے علاقوں بارنزلے، شیفیلڈ، لیڈز، ویک فیلڈ اور دیگر شہروں میں مزید 8 بِنز نصب کیے گئے ہیں، نئے بِنز کے اضافے کے بعد ملک بھر میں سرینڈر بِنز کی مجموعی تعداد 45 ہو گئی ہے۔
پولیسنگ وزیر سارہ جونز کا کہنا ہے کہ سڑکوں سے ایک ہتھیار بھی کم ہونا کمیونٹیز کے زیادہ محفوظ ہونے کی علامت ہے، حکومت آئندہ 10 برس میں ایسے جرائم کی شرح نصف کرنے کے وعدے پر عمل پیرا ہے۔
ہوم آفس کے مطابق 2024ء کے انتخابات کے بعد چاقو سے ہونے والے جرائم میں 11 فیصد، چاقو کے ذریعے ڈکیتیوں میں 16 فیصد اور چاقو سے ہونے والے قتل کے واقعات میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
چاقو سے متعلق جرائم کے خلاف عوامی آگاہی کے لیے لندن میں خصوصی وین کے ذریعے مہم بھی چلائی گئی ہے۔