ٹرمپ عظیم دوست، لیکن معاہدہ ہو یا نہ ہو، اسرائیل دفاع کیلئے جو بہتر سمجھے گا کرے گا، نیتن یاہو

فوٹو: اسرائیلی میڈیا 

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایک عظیم دوست ہیں، لیکن کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، اسرائیل اپنے دفاع کے لیے جو بہتر سمجھے گا کرے گا۔

 نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے وجود پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ میں اپنی موجودہ فوجی پوزیشنوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس مکمل طور پر اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کی ٹیم سمجھتی ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح اور غزہ کو فوجی سرگرمیوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، ہمیں ایک مسودہ بھیجا گیا تھا، لیکن ہم نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ ہمارا مسودہ نہیں تھا۔ ہم نے اپنی تجاویز واپس بھیج دی ہیں۔

بورڈ آف پیس کے منصوبے کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں اصل یلو لائن تک واپس جانا ہوگا، جہاں وہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت واپس گیا تھا۔ تاہم بعد میں اسرائیل نے غزہ کے زیرِ کنٹرول علاقے کو بڑھا کر تقریباً 60 فیصد تک کر لیا۔

اس منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ حماس کی جانب سے ہتھیار حوالے کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دے اور مرحلہ وار فوجی انخلا کرے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ تجویز صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے، جسے اسرائیل گزشتہ برس اصولی طور پر قبول کر چکا تھا۔ 

امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے اس نئی تجویز کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو صدر ٹرمپ شدید مایوسی کا اظہار کریں گے۔

ادھر بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندوں نے پیر کے روز یروشلم میں نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ انہیں اس منصوبے پر آمادہ کیا جا سکے، تاہم ملاقات کے بعد بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی فوج کو اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے لیے ضروری ہر اقدام کی ہدایت دی گئی ہے اور فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

Related posts

ن لیگ آزاد جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی، شاہ غلام قادر

مسلسل تین مرتبہ کمی کے بعد آج پیٹرول مہنگا کردیا گیا، ڈیزل سستا

ایران میں قومی سلامتی الزامات پر 56 افراد کو سزائے موت دی جا چکی، اقوام متحدہ