تارکین وطن کو برطانیہ سے یورپ منتقل کرنے کیلئے انسانی اسمگلروں کا نیا نیٹ ورک قائم

فوٹو: فائل۔اے ایف پی

ایک برطانوی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسانی اسمگلروں نے غیر قانونی تارکین وطن کو برطانیہ سے یورپ منتقل کرنے کے لیے ایک نیا اور منظم نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اسمگلر فی کس ایک ہزار پاؤنڈ کے عوض تارکین وطن کو انگلش چینل عبور کرا کے یورپی سرزمین تک پہنچاتے ہیں، جبکہ مزید پانچ سو پاؤنڈ وصول کر کے انہیں اسپین منتقل کیا جاتا ہے، جہاں حالیہ امیگریشن پالیسیوں کے باعث غیر قانونی تارکین وطن کے لیے قانونی حیثیت حاصل کرنے کے امکانات نسبتاً زیادہ بہتر سمجھے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے اشتہارات سیاحتی پیکیجز کی طرز پر شائع کر رہے ہیں۔ ان اشتہارات میں برلن، پیرس، روم اور دیگر یورپی شہروں کی دلکش تصاویر استعمال کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو راغب کیا جا سکے۔ اسمگلر خاص طور پر ایسے افراد کو نشانہ بناتے ہیں جن کے برطانیہ میں ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے یا جن کی امیگریشن حیثیت غیر یقینی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ گروہ تارکین وطن کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ انہیں برطانوی امیگریشن حکام کی نظروں سے بچاتے ہوئے یورپ پہنچا دیں گے، جہاں شنجن زون کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں انہیں ٹیکسیوں اور دیگر نجی گاڑیوں کے ذریعے مختلف راستوں سے یورپی ممالک تک منتقل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی ایک وسیع اسکیم متعارف کر رکھی ہے۔ اس عام معافی (ایمنسٹی) پروگرام کے تحت اب تک تقریباً بارہ لاکھ درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں، جن میں سے تقریباً چھ لاکھ افراد کو قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ انسانی اسمگلر اسپین کو اپنی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنا کر پیش کر رہے ہیں اور غیر قانونی تارکین وطن کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہاں پہنچنے کے بعد ان کے لیے قانونی رہائش حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

دوسری جانب برطانوی حکومت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انگلش چینل کے دونوں اطراف قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کے لیے سرحدی نگرانی اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد بھی جاری ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک یورپی ممالک کی امیگریشن پالیسیوں میں واضح ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی، انسانی اسمگلنگ کے یہ نیٹ ورک نئے راستے تلاش کرتے رہیں گے اور غیر قانونی تارکین وطن کا استحصال جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

Related posts

پولیس بروقت کارروائی کرتی تو آج میری بیوی زندہ ہوتی، مقتولہ کے شوہر کا بیان

ریسلنگ کی دنیا پر راج کرنے والے پہلوان بروک لیسنر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

18 ماہ میں نسل پرستی واقعات میں نمایاں اضافہ، نیشنل ہیلتھ سروس کا انکشاف