بھارتی ریاست گجرات میں کڑھائی کے کاروبار سے وابستہ راجیش بھائی کنجاڈیا نے مسلسل دھمکیوں، طعنوں اور مالی دباؤ سے تنگ آ کر زہر پی کر خودکشی کر لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خودکشی کا واقعہ 30 جولائی کو پیش آیا، متوفی نے خودکشی سے قبل ایک نوٹ بھی چھوڑا جس میں اپنے 3 قریبی دوستوں کو ذمے دار ٹھہرایا۔
متوفی نے نوٹ میں بتایا ہے کہ تینوں نے مجھ سے مجموعی طور پر 17.32 لاکھ روپے قرض لیے مگر رقم واپس کرنے کے بجائے مسلسل تضحیک کرتے، دھمکیاں اور ذہنی اذیت دیتے رہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ راجیش نے کاروبار میں خسارے کے باعث اپنی کڑھائی کی مشینیں فروخت کر کے حاصل ہونے والے 14 لاکھ روپے اپنے دوست گھنشیام آہیر کو کینیڈا جانے کے لیے قرض دیے تھے، بعد میں رقم واپس مانگنے پر ملزم نے انکار کر دیا اور راجیش کے نام پر 6 مختلف بینکس میں اکاؤنٹس کھلوائے جنہیں پولیس کے مطابق سائبر فراڈ کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راجیش کی جانب سے اعتراض کرنے پر ملزم نے اسے سائبر فراڈ میں پھنسانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر 2 ملزمان نے بھی راجیش سے 2 لاکھ اور 1.32 لاکھ روپے ادھار لیے تھے، تینوں ملزمان رقم واپس کرنے کے بجائے اسے بار بار کہتے تھے کہ ’اگر پیسے نہیں ہیں تو مر جاؤ‘، جس سے متوفی شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
پولیس کے مطابق خودکشی کے روز راجیش اپنی بیٹی کے ساتھ گھر سے نکلا اور کچھ فاصلے پر جا کر بیٹی کو واپس بھیج دیا اور خود زہر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔