’’اے آئی‘‘ کا شعبہ زراعت میں استعمال

موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی )کو ایک روایتی تجربے پر مبنی سرگرمی سے بدل کر ایک اسمارٹ ڈیٹا پر مبنی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے قابل نظام میں تبدیل کررہی ہے۔ ماضی میں کاشتکاری کے اکثر فیصلے موسمی اندازوں کی بنیاد پر کئے جاتے تھے، کسان آبپاشی کھاد اسپرے یا برداشت کے وقت کا فیصلہ کھیت کی ظاہری حالت دیکھ کر کرتے تھے۔

یہ تجربہ آج بھی اہم ہے لیکن موجودہ دور میں زراعت زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے، کیوں کہ کسانوں کو ایک ہی وقت میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ کیڑوں کے محلوں، پانی کی کمی زمین کی کمزوری زرخیزی کم ہونااور مارکیٹ کی غیر یقینی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا اس وقت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کا استعمال کسی حد تک ان مسائل کو کم کرنے میں مؤثر اور مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی زراعت کو اسمارٹ فارمنگ یا پرسیڑن ایگریکلچر بھی کہا جاتا ہے۔

اس میں مشین لرننگ ،ڈیپ لرننگ ،مصنوعی ذہانت،کمپیوٹر وژن سٹیلائٹ تصاویر، ڈرونز ،خود کار آبپاشی اور تجزیاتی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کسان کو آسان الفاظ میں سمجھانے میں مدد فراہم کرتا ہے کہ کھیت میں کیا ہورہا ہے اور آگے کیا کیا ہوسکتا ہے اور اس کے لیے کونسا عمل بہتر ہے، اے آئی کا پس منظر معاشرے کی وسیع ڈیجیٹل تبدیلی سے جڑا ہوا ہے ،کیوں کہ خوراک کی طلب کی مانگ دن بدن بڑھتی جارہی ہے جب کہ قدرتی وسائل کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔

اس تمام نظام میں اے آئی ایک مؤثر ذریعہ ہے ،کیوں کہ یہ زراعت سے منسلک تمام شعبہ جات کو زیادہ درست مؤثراور کم خرچ لاگت کا تعین کر کے بتاتا ہے، اس طرح کسان آنے والے کئی نقصانات سے خود کو محفوظ کرسکتا ہے۔ دراصل زراعت میں مصنوعی ذہانت سے مرادایسے کمپیوٹر نظام کو تر تیب دینا ہے جو سیکھنے، سوچنے کے عمل کے ذریعے فیصلے پرمبنی موبائل ایپ اور کسان کوبر وقت رہنمائی فراہم کر سکے۔ مشن لرننگ کسان کو بآسانی بات سیکھانےاور پیشن گوئی کرنے میں معاون ہیں۔

اے آئی کا مقصد ڈیجیٹل آلات کے ذریعے زراعت کے حصول کوممکن بننا ہے۔ جدید ممالک اے آئی کااستعمال کر کے اپنی ضرورت کا مکمل ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ موجودہ دور میں چین اس کی مکمل عکاسی پیش کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف زراعت میں پیداوار بڑھانے کے لیےہی نہیں ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، کیمیکل کے دباؤ میں کمی سے معیار کو صرف ہائی ٹیک آلہ نہیں بلکہ پائیدار اور گرین لیڈ، اے آئی کی بہتری اور کسان کی فلاح کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

جدید زراعت کی زیادہ خوراک پیدا کرنے اور قدرتی وسائل کو بڑھانے میں اے آئی کا استعمال بہت ضروری ہے، کیوںکہ اے آئی کا استعمال ہی کسانوں کو ابتدائی مرحلے میں پیش مسائل کا جائزہ لے کر اسے آئندہ آنے والے نتائج سے باخبر رکھتا ہے۔ موجودہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید موسمیات کا فقدان، جدید ٹیکنالوجی اور آلات سے دوری اور ان آلات کو اپنانے تک رسائی نہ ہونا ہی وہ بنیادی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہم پیداوار کا وہ ہدف حاصل نہیں کرپاتے ہیں، جس کی ملکی اور غیر ملکی سطح پر ضرورت ہے۔

پاکستان جوکہ بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرنے والا ملک ہے، اس کی فصلوں کو بڑھانے زمین کو درپیش مسائل کے حل، پانی، کھاد، ادویات، توانائی اور مزدوروں کے استعمال کو بہتر بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ روایتی طریقے ہی کافی نہیں رہے ،کیوں کہ کسان پانی کی کمی، موسمی تبدیلی کیڑوں اور بیماریوں کے دباؤ، لاگت، کم مشینی مہارت، عمل بعد از برداشت نقصانات اور بروقت ماہر مشورے کی کمی کا سامنے سے دو چار ہیں ،اس لیےاے آئی اور اسمارٹ فارمنگ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ کسان کو موسم، آبپاشی، مٹی کی غذائیت کیڑوں کے قطرے، فصل کی صحت اور مارکیٹ کی صورت حال کے بارے میں بروقت معلومات دے سکتے ہیں۔ لہٰذا اس کا استعمال جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔

یہ موجودہ دور میں زراعت غذائی تحفظ کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، کیوںکہ یہ پیداوار کی پیش گوئی فصل کی منصوبہ بندی اور بیماری کے الرٹس کے ذریعے اس مقصد کو مضبوط بناسکتا ہے۔ اے آئی کے ذریعے زراعت ان پٹ کی بہتری اور معیار کا کنٹرول جی پی ڈی برآمدات زرعی صنعتیں اور مارکیٹ ویلیو میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ جب کہ اس کی مشاورتی اسپیس اور دوست زراعت کے آلات کسان کی لاگت کم اوراے آئی کے ذریعے معاشی فائدہ بڑھاسکتا ہے، دیہی علاقوں میں اسمارٹ آبپاشی اور رساؤ کی شناخت کے ذریعے پانی بھی بچایا جاسکتا ہے۔

اے آئی کے ذریعے ڈیٹا کی وصولی، سٹیلائٹ، تصاویر، موسم مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی ماضی کے تجربات پیداوار کا تخمینہ یہ تمام امور اب کسان کو بروقت فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں کہ کون سی فصل کہاں پر لگنی چاہئے، منڈی میں اس پیداوار کا رجحان کیا ہے کب آبپاشی کرنی ہے کس وقت کتنےاسپرے کرنے ہیں۔

یہ تمام فیصلے اگر بروقت اے آئی کی مدد سے کئے جاتے تو خطرہ کم اور منافع بہترین ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ یہ اے آئی کا اسمارٹ آبپاشی اور پانی کی مؤثر ترسیل کے لیے اے آئی بہت کار آمد ہے، عموماً بہت سے کسان فضل کی اصل ضرورت کے بجائے مقررہ شیڈول کے مطابق آبپاشی پانی زراعت کا انتہائی اہم جزو ہے۔ اے آئی کے استعمال سے پانی کا ضیاع، سیم و تھور، نمکیات، جڑوں کےعلاقہ میں آکسیجن کی کمی اور توانائی کی لاگت کوکنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اے آئی آج کل آبپاشی نظام، مٹی کی نمی سینرز، درجہ بندی، حرارت، موسمی پیشن گوئیاں اور فصل کے مکمل ڈیٹا کا جامع نیٹ ورک تیار کرتا ہے، اگر اے آئی کا براہ راست آبپاشی نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے تو پانی کے ضیاع کو کس حد تک روکا جاسکتا ہے جوکہ زراعت میں اہم ترین مرحلہ اور مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔ مٹی کی نمی، درجۂ حرارت ،پی ایچ ،برقی مواصلات نامیاتی مادّہ اور غذائی اے آئی مٹی کی صحت فصل کی صحت کی بنیاد ہے اور سٹیلائٹ تصاویر کو ملاکر اس کھیت کے Soil testing records حالت کے تجربے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

اے آئی کی مدد سے کھیت کے سینسرز اور بڑھوتری کے ماڈلز کے ذریعے پودوں کی صحت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سوفٹ ویئر کے ذریعے فصل کی نگرانی میں کمپیوٹر وژن پتے کا رنگ، پودوں کی لمبائی، پھول آنے کا مرحلہ ،پھل کے پکنے کی حالت اور کون سے عوامل ان کو متاثر کرسکتے ہیں، یہ سب کچھ اے آئی کی بدولت ابتدائی مراحلوں میں ہی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

اے آئی کا ایک اہم ٹول جوکہ کیڑوں اور بیماریوں کی شناخت میں قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔اے آئی کا باقاعدہ استعمال سبز زراعت کو فروغ دینے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے غیر ضروری، زرعی بیماری اور کیڑوں کا پھیلاؤ جوکہ ابتدائی مراحلوں میں ہوتا ہے باآسانی ٹریٹ کیا جاسکتا ہے۔

اے آئی کیڑوں کی لائف سائیکل کو واضح کرتا ہے، جس کی مدد سے یہ پتہ چلانا ممکن ہوتا ہے کہ کیڑوں کی کون سی قسم/ مرحلہ زیادہ نقصان دہ ہے اور اس کو کب اور کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ کیا ہوگا، یہ ابتدائی سفارشات بہترین پیداوار کے لیے بہت ضروری ہیں۔

اے آئی اسپرے کے استعمال میں بھی کسانوں کا بڑا معاون ساتھی ثابت ہوا ہے۔ روایتی طریقے میں زراعت کے سیکٹر میں زرعی زہر کا استعمال صحیح اور غلط ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، پودے کھیت کا عمومی اسپرے پیداوار لاگت پیدا کرسکتی ہے،تاہم غلط استعمال پودوں میں قوت مدافعت کو پیدا کرتا ہے اور پانی کو آلودہ کرتا ہے جوکہ آبی مخلوقات کے لیے بہت مفید ہے ۔ زرعی زہر جہاں کیڑوں کو نقصان پہنچاکر فصلوں کو بچاتی ہے، وہاں اس کا غلط استعمال ماحول میں نئی طرح کی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔

اے آئی کی اسپنر یہ تعین کرتی ہیں کہ اس اسپرے کی کتنی Dose استعمال کی جائے اور کب اور کس وقت پر اس کو فیلڈ میں اسپرے کیا جائے اور اس کے بے دریغ استعمال سے فائدوں کے ساتھ کون کون سے نقصانات ہوسکتے ہیں اور زیادہ اسپرے کا استعمال کس طرح پھلوں، سبزیوں اور فصلوں کی اقسام کو متاثر کرتا ہے اور ان میں موجودہ غذائی اجناس کس حد تک متاثر ہوتے ہیں۔

اے آئی کے ذریعے یہ Detect کرنا بھی بڑا آسان ہے کہ مشین کے ذریعے صرف اور صرف ٹارگٹ پودوں کو ہی اسپرے کیا جائے۔ دراصل مضبوطی ذہانت پر مبنی اسمارٹ اسپرے بیماریاں کہاں موجود ہیں اور پھر اسپرے مشین کے ذریعے مقررہ مقام پر اور مناسب مقدار میں کیمیائی استعمال کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اے آئی کی دنیا میں ڈورنز زیادہ اعلیٰ معیار کی تصاویر دیتے ہیں اور ہدف اسپرے کے لیے ان کا استعمال بہت مؤثر ہے، کیونکہ دور دراز علاقے جہاں انسانی رسائی ممکن نہیں، وہاں ڈورنزکا استعمال کئی قیمتی فصلوں، پودوں، پھلوں اور پھولوں کا بچاؤ ممکن ترین بناتا ہے۔

اے آئی کی مدد میں ڈورنز سے لی گئی تصاویر کا تجربہ کرکے ان کے نقشے بنائے جاتے ہیں، جن میں صحت مند علاقے، دباؤ والے علاقے، خشک علاقہ جات اے آئی-Algorithms Extension غذائی کمی والے علاقے اور ممکنہ کیڑوں کے متاثرہ علاقے دکھاتے ہیں، ایسے نقشے کسان اور محققین کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اے آئی کی دنیا میں روبوٹکس اور خودکار مشینری ٹریکٹر فارم کے کام کو تبدیل کررہی ہیں۔

خودمختار مشینوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے رہنمائی یافتہ اور گرین ہاؤس روبوٹس بار بار دہراتے جاتے ہیں، جن کی مدد سے بیجوں کو زمین میں ڈالا جاتا ہے۔ Seed Placement System اب روبوٹس اور خودکار مشینوں کے ذریعے بڑے ہی کارآمد نتائج دے رہا ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے بیجوں کے ضیاع کا خطرہ نہیں ہے اور ان کو مناسب فاصلے کے ساتھ زمین میں بویا جاتا ہے، جس کی وجہ سے درمیانی فاصلے ان کی بڑھوتری کے لیے بڑا ہی مفید ہے اور ان کے غذائی کمی میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، نہ صرف یہ بلکہ روبوٹس کافی لمبے عرصے تک کھیت میں کام کرسکتے ہیں، ان کی کارکردگی گرمی اور سردی سے متاثر نہیں ہوتی۔

اے آئی سینسرز، ڈرونز Camera Wearable کی مدد سے مویشی کا فیلڈ میں گھومنا جانوروں کی حرکیات و سکنات کونوٹ کرنا اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے بروقت کارروائی کو عمل میں لانا فی فوری کسانوں اور کاشتکاریوں کو جانوروں کی غیر معمولی حرکت سے آگاہ کرنا ،تاکہ وہ بروقت کارروائی کرکے جانوروں کی حرکات کو روک سکے جب کہ روایتی طریقوں سے یہ ممکن نہیں ہے، تاہم اے آئی کے مؤثر استعمال سے بروقت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اے آئی آج کے کسان کو دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے کئی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس کی مدد سے ایک عام کسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کا حدف کس طرح مکمل کرے اور اپنی محدود آمدنی سے لگائے گئی فصل کو کس خطرات سے بچا سکتا ہے۔ اے آئی کی مدد سے نہ صرف بیماریوں کے نشانات ان کے سدباب کے لیے کوشش کرنا ممکن بناتی ہے، بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپیوٹر وژن، پھل، سبزیاں، اناج اور دیگر زرعی پیداوار کو تیزی اور درستگی سے درجہ بندی کرسکتا ہے۔

بہتر درجہ بندی بازاری قدر بڑھاتی ہے اور فصلوں کی مارکیٹ ویلیو کسانوں کو خوش حالی سے دوچار کرتی ہے۔ کمپیوٹر وژن کے ذریعے خراب زرعی پیداوار کو جلد شناخت کرکے ذخیرہ اندوزوں سے بھی بچایا جاسکتا ہے، اس طرح بہترین اجناس کو زرخیزہ کرنے اور زرخیزہ گاہوں میں درجۂ حرارت اور نمی کے تناسب کو کم کرنے اور نقصانات کو کم سے کم کرنے میں اے آئی بہت ہی معاون ثابت ہوگا۔

مارکیٹ ویلیو کے جانچنے میں اے آئی کا تجزیہ بہت ہی کار آمد ہے، یہ دراصل کاشتکاروں کی موجودہ حالات میں منڈی کی طلب، قیمتوں کے رجحانات موسم کی صورت حال کب اور کس وقت منڈی تک ترسیل ممکن کی جائے اور یہ کسان کو یہ فیصلہ بھی کرنے میں مدد دیتا ہے کہ فضل کو کب فروخت کیا جائے اور کہاں اور کس منڈی میں اس کی مانگ زیادہ ہے۔

پاکستان میں اے آئی کو اپنانے میں کئی طرح کی رکاوٹوں اور دشواریوں کا سامنا ہے، اگرچہ نئی بڑے فارمز میں آج اے آئی کا استعمال شروع ہوچکا ہے،تاہم یہ ذہانت ابھی صرف امیر طبقے تک ہی محدود ہے، ایک عام اور غریب کسان اس کی ترسیل سے محروم ہے، پاکستان میں اے آئی کے حصول کے لیے حکومت کوشاں ہیں۔

اے آئی میں استعمال ہونے والے تمام تر آلات، کیمرہ، کمپیوٹر، موبائل فون اور روبوٹ اسپنر وغیرہ تمام کے تمام بجلی سے منسلک ہیں، تاہم پاکستان میں دور دراز علاقوں میں الیکٹرک سٹی کا نہ ہونا بھی اس اسپنر کو متعارف کروانے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

لہٰذا فیلڈ میں مکمل اور ہمہ وقت پاور سپلائی اور سولر پاورڈنظام کا انعقاد ضروری ہے۔ ان کے انعقاد سے یہ اے آئی کا ڈھانچہ مؤثر کام نہیں کرسکتا۔ ایپس اور کم بینڈوتھ نظام اس مسئلے کو کم کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بین الاقوامی ڈیٹا تک رسائی نہ ہونا، فصلوں کی بیماریوں کو مکمل اور فوری روک تھام، منڈی تک رسائی، موسم نمونے، پیداوار آبپاشی ضرر رساں کیڑے، موسمیاتی فصلیں مقامی حالات میں درست کام نہیں کرپاتے۔

یہ ہی عوامل اے آئی ماڈلز کی ترقی میں رکاوٹیں ہیں، تاہم ان مسائل پر کام کرکے ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے اے آئی کا حصول ممکن کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تربیت یافتہ افراد کی بہت کمی ہے، تربیت یافتہ افراد کا نہ ہونا زراعت میں بھی کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اب تک عام کسان کو ٹیکنالوجی کو سمجھنے (Modeling Crops) مشین لرننگ (Agriculture Data) کا حصول Digital Extension، Drone operation سینسر GIs میں ترتیب نہ ہونا، زراعت اور کمپیوٹر سائنس کا تعاون نہ ہونا یہ وہ خلا ہے جو اب تک دوسرے باہمی مشاورت تعاون سے ہی ممکن ہے، کیونکہ جب تک زراعت اور کمپیوٹر سائنس اور اے آئی ماہرین، ٹیکنالوجی ماہرین کا آپس میں رابطہ نہیں ہوگا، اس ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن نہیں اور نہ ہی ہم بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

اے آئی کا زراعت میں مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی چیلنجز کو نمٹنے کے لیے ہمیں اے آئی کو اپنانا ہوگا، آنے والے حالات میں زرعی شعبے کو زیادہ خوراک فوڈ سسٹم کا مستقبل بہت روشن ہے، کیوںکہ اے آئی زراعت میں ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہے، اس کے استعمال سے ماحولیاتی نقصان کم ہوسکتا ہے، ضرورت کے تحت غذائی اجناس کو پیدا کیا جاسکتا ہے، زراعت میں پیداوار کے حدف کو مکمل کیا جاسکتا ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے خود کو ڈھالا جاسکتا ہے۔

مستقبل کے فارمز خودکار نظام کے تحت (Agriculture Connected) عالمی سطح پر اور مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمزگرین ہائوسز فیصلہ سازی میں مدد دینے والے اسمارٹ سینسرز، ڈورنز سٹیلائٹس ،روبوٹس اور حشرات کے حملے اور بیماریوں کے اثرات تک رسائی اب وقت کی ضرورت ہے اور ہمیں اس ضرورت کے تحت مقامی پالیسی مرتب کرنی ہوگی، یہ ہی وقت کی ضرورت ہے۔

تاہم اس بات سے انکار نہیں ہے کہ پاکستان کی زراعت میں اے آئی ایک کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ اے آئی کی مدد سے کسان موسم کی پیشن گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی پہچان، پانی اور کھاد کے بہتر اور بروقت استعمال زمین کی زرخیزی کے تجربے اور پیداوار میں اضافے کے لیے جدید طریقے اختیار کرسکیں گے۔

ڈرونز، سینسرز اور اسمارٹ مشینوں کے ذریعے فصلوں کی نگرانی آسان ہوجائے گی، جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آنے لگے گی پاکستان جیسے زرعی ملک میں اے آئی کا استعمال نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھا سکتا ہے بلکہ خوراک کی کمی پانے کا ضیاع اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر حکومت تعلیمی ادارے اسکول، کالج، یونویرسٹیاں مل کر اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنائیں تو پاکستان کی زراعت زیادہ جدید منافع بخش اور پائیدار بن سکتی ہے۔

Related posts

مراد سعید، احسن اقبال کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں، عدالت کا حکم

چھوٹا مسافر طیارہ گرکر تباہ ، 13 افراد ہلاک

گاڑی سے جلی ہوئی لاش ملنے کے کیس میں ملزم اور اس کے ساتھی کا جسمانی ریمانڈ منظور