یومِ استحصالِ کشمیر کی مناسبت سے 1 ہفتے طویل تصویری نمائش کا افتتاح

—فوٹو بشکریہ رپورٹر

یومِ استحصالِ کشمیر (5 اگست) کی مناسبت سے برسلز میں پاکستان کے سفارت خانے میں  ایک ہفتے طویل تصویری نمائش کا افتتاح کیا گیا۔

اس نمائش کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرنا ہے۔

یہ نمائش ان مشکلات کی ایک مؤثر بصری عکاسی بھی کرتی ہے جو جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے برداشت کر رہے ہیں اور جن میں 5 اگست 2019ء کے بعد مزید شدت آئی ہے۔

اس نمائش میں کشمیری عوام کو درپیش انسانی چیلنجز اور مسلسل پابندیوں کو دکھایا گیا ہے، تصاویر اور دستاویزی مواد کے ذریعے اس نمائش کا مقصد دیکھنے والوں میں جموں و کشمیر کی صورتحال اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع جموں و کشمیر کے پُرامن حل کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے سفیرِ پاکستان رحیم حیات قریشی نے یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور یاد دہانی کا دن قرار دیا۔ 

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

سفیر نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع جموں و کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے۔

یہ نمائش برسلز کے پاکستانی سفارت خانے میں ایک ہفتے تک کے لیے کھلی رہے گی اور کشمیری عوام کے عزم و استقلال نیز حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کی ایک مؤثر یاد دہانی کا کام دے گی۔

Related posts

برطانوی عوام کے پاسپورٹ کنٹرول سے گزرنے کے وقت میں 3 گنا اضافہ

ہم مطالبہ کرتے ہیں پاکستان میں آبادی کے مطابق انتظامی یونٹس بنیں، خالد مقبول صدیقی

مودی کا اپنے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنیوالے طلبہ کو معاف کرنے کا اعلان