’سسرال والوں کی سوچ کبھی نہیں بدلے گی‘، جہیز کے مطالبے اور تشدد سے تنگ بھارتی سرکاری ٹیچر نے خودکشی کر لی

—فوٹوز بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر دہرادون میں ایک سرکاری خاتون ٹیچر نے مبینہ طور پر شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے جہیز کے مطالبے اور ذہنی و جسمانی ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون سرشتی کندھاری کی شادی گزشتہ سال نومبر میں سرکاری ملازم سوربھ راتوری سے ہوئی تھی۔

متوفیہ کی والدہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ شادی کے بعد سے میری بیٹی کو جہیز کے لیے مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جبکہ شوہر اور سسرال والے اسے بار بار ’منحوس‘ اور ’بدقسمت‘ کہہ کر ذلیل کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق سرشتی کندھاری کی والدہ کی جانب سے بیٹی کی خودکشی سے قبل ریکارڈ کی گئی تقریباً 90 سیکنڈ کی ویڈیو بھی بطور ثبوت شیئر کی گئی ہے۔

ویڈیو پیغام میں سرشتی کندھاری روتے ہوئے اپنی والدہ سے معافی مانگ رہی ہے۔

متوفیہ کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ امی! معاف کر دیجیے، میں ایسے جا رہی ہوں، میں گزشتہ 6 ماہ سے یہ سب برداشت کر رہی ہوں، اب مزید ہمت نہیں رہی، ان لوگوں کی سوچ کبھی نہیں بدلے گی، وہ ہر بات کا الزام مجھ پر لگاتے ہیں اور مجھے منحوس کہتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے بدھ کے روز پھندا لگا کر خودکشی کی تھی۔

سرشتی کی والدہ کی شکایت پر شوہر سوربھ راتوری، ساس اور نند کے خلاف جہیز کے باعث موت سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سرشتی کندھاری کی شادی کو صرف 8 ماہ ہوئے تھے جبکہ وہ خود سرکاری ٹیچر تھی اور اس کا شوہر بھی ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہے، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

Related posts

بانی کاکروچ جنتا پارٹی ابھیجیت دیپکے سے بی جے پی میں شمولیت کا مطالبہ

پاک امریکا اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، سرمایہ کاری اور برآمدات پر زور

سری لنکا ویمنز نے تیسرے ون ڈے میں پاکستان ویمنز کو ہرا کر سیریز 1-2 سے جیت لی