امریکی فوج نے جدید الیکٹرانک وار فیئر سسٹم ’ہیمر آف دی گاڈز‘ (Hammer of the Gods) کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو دشمن کے نظام کو متاثر کر کے درست نشانے پر حملہ کرنے والے ہتھیاروں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ تجربہ جولائی کے وسط میں امریکا کے مغربی ساحل کے قریب سمندر میں Project Convergence Capstone 6 (PC-6) کے تحت کیا گیا۔
یہ اس نظام کے سمندری ورژن کا پہلا باضابطہ تجربہ تھا، جبکہ گزشتہ 2 برس کے دوران اس کے زمینی تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔
یہ ایک قابلِ نقل الیکٹرانک سگنل ڈسٹرپٹر ہے، جو دشمن کے درست نشانے والے ہتھیاروں کے رہنمائی اور نیویگیشن سگنلز میں خلل ڈالتا ہے۔
یہ نظام پوزیشننگ، نیویگیشن اور ٹائمنگ (PNT) سگنلز، بشمول GPS ڈیٹا کو جام کر سکتا ہے، مناسب پی این ٹی معلومات نہ ملنے کی صورت میں میزائلوں اور دیگر گائیڈڈ ہتھیاروں کی درستگی متاثر ہوتی ہے، جس سے ان کے ہدف سے چوکنے یا مشن میں تاخیر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اس نظام میں دوست فوجی دستوں کے درمیان مضبوط مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، جس کے باعث شدید الیکٹرانک جیمنگ کے ماحول میں بھی فوجی یونٹس ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہ نظام مختلف فوجی آلات کو آپس میں مربوط کرتا ہے، جس سے مشکل اور الیکٹرانک جنگ سے متاثرہ ماحول میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق Counter-PNT نظام کو حقیقی سمندری ماحول میں مؤثر انداز میں تعینات، آپریٹ اور واپس حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اس نظام کا نام دیومالائی کردار اسکینڈینیوین یا نارسک دیوتا تھور کے مشہور ہتھوڑے میولنیر (Mjolnir) سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے، میولنیر کو ناقابلِ شکست طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی تصور کے تحت ہیمر آف دی گاڈز دشمن کے درست نشانے والے ہتھیاروں کے خلاف ایک طاقتور اور فیصلہ کن الیکٹرانک وار فیئر حملے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔