امریکی اداکار و گلوکار جیرڈ لیٹو پر 4 خواتین نے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی کی ایک نئی دستاویزی فلم ’جیرڈ لیٹو: ہالی ووڈز ڈارک سیکریٹ‘ میں 10 خواتین نے جیرڈ لیٹو کے بارے میں بات کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 10 میں سے 4 خواتین نے اداکار پر جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ اداکار نے اسے موٹل کے باتھ روم میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس وقت وہ 17 سال کی تھی۔
دوسری خاتون نے بتایا کہ جب وہ 19 سال کی تھی تو جیرڈ لیٹو نے اسے جنسی زیادتی کی دھمکی دی۔
تیسری خاتون نے یہ بتایا کہ اداکار نے اسے کیلیفورنیا میں اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ 17 سال کی تھی جب کہ چوتھی خاتون نے ملزم جیرڈ لیٹو پر یہ الزام عائد کیا کہ اداکار نے اسے فون کالز پر تب جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جب وہ 16 سال کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق تمام مبینہ واقعات 2002ء سے 2016ء کے درمیان ہوئے۔
بی بی سی کی یہ دستاویزی فلم کے ریلیز ہونے کے بعد جیرڈ لیٹو نے خواتین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر اپنے ردِعمل کا اظہار کر دیا ہے۔
اُنہوں نے اپنے بیان میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی، یہ دعوے بالکل جھوٹے ہیں۔