برطانیہ میں رواں برس مئی اور جون کے دوران آنے والی گرمی کی لہروں کے باعث ہونے والی اموات 2025 کے پورے سال میں گرمی سے ہونے والی اموات کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔
اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا ہے کہ رواں برس شدید گرمی کی ابتدائی دو لہروں کے نتیجے میں 2,887 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 2024 میں گرمی کے باعث 1,311 اور 2025 میں 1,504 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
ایجنسی کے مطابق 24 سے 27 مئی کے دوران آنے والی گرمی کی لہر سے 753 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 21 سے 28 جون کے درمیان آنے والی دوسری لہر کے باعث 2,124 اموات ہوئیں۔
رپورٹ کے مصنف اور ایجنسی کے پرنسپل انوائرنمنٹل پبلک ہیلتھ سائنٹسٹ ڈاکٹر راس تھامسن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ شدید گرمی لوگوں کی صحت خصوصاً معمر افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ شدت کے ساتھ بار بار آنے کا امکان ہے، اس لیے کمیونٹیز اور متعلقہ اداروں کو ان سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔
ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر رواں موسمِ گرما کے دوران مزید گرمی کی لہریں آئیں تو گرمی سے ہونے والی اموات برطانیہ کی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
دوسری جانب ہیلتھ سیکریٹری یوویٹ کوپر نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ گرم موسم میں اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی کو اپنی یا کسی دوسرے شخص کی صحت کے بارے میں تشویش ہو تو فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ بروقت توجہ اور مناسب دیکھ بھال کسی کی جان بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔