بیشتر معمر افراد 6 سے 8 گھنٹے سونے کے باوجود معیاری نیند سے محروم

ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے 9 معمر افراد رات کو ماہرین کی تجویز کردہ چھ سے آٹھ گھنٹے سونے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے ہر 10 میں سے 7 افراد ممکنہ طور پر بے خوابی یا نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری جیسے طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ شرح گزشتہ تحقیق کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک شخص بے خوابی یا نیند نہ آنے کے مسئلے سے دوچار ہے۔ برطانیہ میں ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں نیند کے مسائل ایک وبائی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ کام سے متعلق ذہنی دباؤ ہے۔

ماہرین صحت اب آجروں اور پالیسی سازوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نیند کے معیار کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دیں تاکہ برطانوی شہری زیادہ عرصے تک ملازمت میں فعال رہ سکیں۔ بہت سے افراد کام کے دوران ذہنی دباؤ کے تجربے سے گزرتے ہیں اور جب یہی دباؤ گھر تک ساتھ آتا ہے تو یہ نیند کے معیار کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو طبی لحاظ سے سنگین نوعیت کے نیند کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بے خوابی کئی سنگین بیماریوں سے منسلک ہے، جن میں ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری)، ڈپریشن (ذہنی افسردگی) اور حتیٰ کہ کینسر بھی شامل  ہے۔

اس تحقیقی ٹیم کے مرکزی مصنف اور ڈیٹا سائنس کے ماہر پروفیسر ایتھاناسیوس ساناس کا کہنا ہے کہ میں کئی برسوں سے نیند اور ذہنی صحت کے طبی مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتا رہا ہوں، لیکن ایسے افراد کے اس گروہ میں، جن کی پہلے تشخیص نہیں ہوئی تھی، نیند کے مسائل کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر واقعی حیران رہ گیا۔

انھوں نے کہا ہمارا تجزیہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مجموعی صحت و خوشحالی کا دار و مدار بڑی حد تک مستقل کام اور ذاتی زندگی کے توازن پر ہے۔

یہ سائنٹیفک رپورٹ نامی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں 50 سے 66 سال کی عمر کے 45 ملازمین کا ایک سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین نے اسمارٹ واچز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور فلاح و بہبود سے متعلق سوالناموں کی مدد سے تمام شرکا میں نیند کے مسائل، رات کو بار بار جاگنا اور نیند کا غیر معیاری ہونے کے بارے میں معلومات جمع کیں۔

اگرچہ بہت سے شرکاء کا خیال تھا کہ ان کی خراب نیند کی وجہ مناسب مقدار میں نیند نہ لینا ہے، لیکن نتائج سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ رات بھر بار بار نیند میں خلل پڑنا تھا۔ تقریباً 90 فیصد شرکاء رات کے دوران باقاعدگی سے کئی مرتبہ جاگتے تھے، حالانکہ ان میں سے اکثر ہر رات اوسطاً ساڑھے چھ سے آٹھ گھنٹے سوتے تھے۔

تقریباً 70 فیصد افراد مسلسل اور طبی لحاظ سے اہم نوعیت کے نیند کے مسائل کا شکار رہے، جبکہ تقریباً 92 فیصد شرکاء نے تحقیق کے دوران کم از کم ایک بار نیند کی خرابی کی تشخیصی حد کو پورا کیا۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ شرکاء کی اکثریت کا خود کو تازہ دم محسوس نہ کرنا نیند کے دورانیے سے زیادہ رات بھر نیند میں آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے تھا۔

Related posts

فرانزک شواہد کی بنیاد پر ثاقب خان قصور وار ثابت ہو چکے: مومنہ اقبال

شام کی چائے کیساتھ بسکٹ لینے کے عادی افراد کو ماہرین نے خبردار کر دیا

سال 2025ء میں مصنوعی ذہانت کی کارکردگی