پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان کا کہنا ہے کہ میں مکمل ری کور کر چکا اور بھر پور ٹریننگ شروع کر دی ہے، اس وقت سارا فوکس 2027ء کے ورلڈ کپ پر ہے۔
فخر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ گزشتہ دو تین مہینے سے کیمپ لگا ہے، کیمپ میں کھلاڑیوں کے جو ایشوز تھے خصوصاً جو کرکٹ کھیلتے ہوئے پتہ نہیں چلتا تو اکیڈمی میں ان پر کام کیا گیا، ورلڈ کپ میں کافی وقت ہے، کھلاڑیوں کو اپنے اوپر کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو کیمپ سے قبل مینجمنٹ کی نظروں میں نہیں تھے مگر انہوں نے اپنا ٹیلنٹ دکھایا، جس سے انہیں مدد ملے گی۔
فخر زمان نے کہا کہ جب آپ جیتتے نہیں ہیں تو باتیں بھی زیادہ ہوتی ہیں، ہمارے فاسٹ بولرز میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے، یہ مشکل وقت ہر ٹیم پر آتا ہے، ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری فٹنس کی بات ہے تو میں نے مکمل ریکور کیا ہے اور بیٹنگ بھی شروع کر دی ہے، آئندہ آنے والے نیشنل چیمپئنز کپ سے کھیلنا شروع کروں گا۔
فخر زمان نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں میں بہت سارے ایسے ہیں جو پی ایس ایل کے ایک دو میچز کھیل کر ٹیم میں آ جاتے ہیں، نوجوانوں میں اگر دم ہے اور وائٹ بال کرکٹ میں میری جگہ لے سکتے ہیں تو کل ہی آ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی محنت کریں اور اگر ان کی جگہ ٹیم میں بنتی ہے تو ضرور آئیں، انہیں کوالٹی، تسلسل اور فارم دکھانی ہو گی، ڈومیسٹک کے پرفارمرز جب انٹرنیشنل کرکٹ میں جاتے ہیں تو انہیں بڑا فرق معلوم ہوتا ہے۔
فخر زمان نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس طرح کے کیمپس کا انعقاد تسلسل سے ہونا چاہیے، پی ایس ایل کے ایک دو میچز میں پرفارم کرنے سے کسی کھلاڑی کو غیر معمولی قرار نہیں دینا چاہیے، لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں بہت فرق ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیٹنگ آرڈر کے حوالے سے مینجمنٹ سے بات ہوئی ہے اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو میڈیا پر نہیں بتائی جا سکتیں، میں ٹیم کی ضرورت کے مطابق سوچتا ہوں اور ٹیم کی ضرورت ہی میری ترجیح ہوتی ہے، ہم لوگ ایک پیج پر ہیں۔
فخر زمان نے یہ بھی کہا کہ ساؤتھ افریقا کی کافی اچھی یادیں ہیں، وہاں کی باؤنسی پچز میری تیکنیک کو کافی سوٹ کرتی ہیں، میں اپنی تمام تر تیاریاں 2027ء کے ورلڈکپ کو ذہن میں رکھ کر، کر رہا ہوں۔