امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے باعث اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے لیے امریکی صدر کی کھل کر مخالفت کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے تاہم اسرائیل فوجی انخلاء سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ میں مکمل امن اسی وقت ممکن ہے جب حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل صرف ہتھیار محفوظ رکھنے یا انہیں فلسطینی اتھارٹی یا کسی بین الاقوامی نگرانی والے فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کو کافی نہیں سمجھتا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے مکمل فوجی انخلاء اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک حماس مکمل طور پر ختم ہو کر اپنے تمام ہتھیار نہ ڈال دے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شامل کیے گیے تجزیے کے مطابق اسرائیل اس مؤقف کے ذریعے جنگ بندی کے دوران بھی غزہ میں کارروائی کی آزادی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل مستقبل قریب میں سیکیورٹی ضروریات کو بنیاد بنا کر علاقے میں اپنی فوجی موجودگی جاری رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔