روزانہ کافی پینے سے ڈیمنشیا کے خطرات میں کمی ہوسکتی ہے، تحقیق

علامتی فوٹو

امریکن فزیولوجیکل سوسائٹی کے تحت 43 سال تک جاری رہنے والی ایک طویل ترین تحقیق کے نتائج میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ معتدل مقدار میں کیفین والی کافی پینے سے دماغی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین نے دیکھا کہ جو افراد باقاعدگی سے کیفین والی کافی کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا (نسیان یا یادداشت کی شدید کمزوری) لاحق ہونے کی شرح بہت کم دیکھی گئی۔

باقاعدگی سے کافی پینے والوں میں سالانہ ڈیمنشیا کے 141 کیسز فی لاکھ افراد ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کافی نہ پینے والے افراد میں یہ شرح 330 کیسز فی لاکھ سالانہ تھی۔

تحقیق کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ کیفین والی کافی پینا دماغی کارکردگی اور یادداشت کے تحفظ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔ البتہ اس سے زیادہ مقدار پینے سے کوئی اضافی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کافی کے یہ فوائد ہر فرد کے لیے یکساں ظاہر ہوئے، خواہ ان کی فیملی ہسٹری یا جینیاتی ساخت کی وجہ سے انہیں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بغیر کیفین والی کافی (Decaf Coffee) میں اس طرح کے حفاظتی اثرات نہیں دیکھے گئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں کیفین کا مادہ بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

کافی کے ساتھ ساتھ تحقیق میں چائے کے استعمال کو بھی بہتر دماغی صحت سے جڑا ہوا پایا گیا، جہاں روزانہ 1 سے 2 کپ چائے پینے والے افراد میں بھی اچھے نتائج دیکھے گئے۔