دہلی ہائی کورٹ نے شخصی حقوق کیس میں امیتابھ کے حق میں حتمی حکم جاری کردیا، جس کے تحت متعدد اداروں اور نامعلوم افراد کو ان کی اجازت کے بغیر ان کا نام، تصویر، آواز یا مشابہت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس حکم کے ساتھ ہی نومبر 2022 میں عبوری حکمِ امتناعی سے شروع ہونے والی کارروائی کا اختتام ہو گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی فرد کی شناخت کے تجارتی استعمال کو کنٹرول کرنے کا حق ’’رائٹ ٹو پبلسٹی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ امیتابھ بچن کا نام اور تصاویر ان کی اجازت کے بغیر اس انداز میں استعمال کی گئیں جس سے یہ غلط تاثر مل سکتا تھا کہ وہ ان مصنوعات یا خدمات کی توثیق کر رہے ہیں۔
بالی ووڈ سپر اسٹار نے مختلف پلیٹ فارمز اور سامان پر اپنی شناخت کے مبینہ بلا اجازت استعمال پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان میں ’’امیتابھ بچن ویڈیو کال‘‘ کے عنوان سے ایک موبائل ایپلی کیشن، ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ لاٹری کو فروغ دینے والے پیغامات، ان کی تصویر والا جنرل نالج کوئز بک، ٹی شرٹس، پوسٹرز اور ان کی شناخت پر مبنی ڈومین نیمز شامل تھے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ بلا اجازت استعمال میں امیتابھ بچن کا نام اور تصاویر شامل تھیں اور انہوں نے پایا کہ ان کے حقِ تشہیر کے تحفظ کے تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔
عدالت نے یہ وضاحت بھی کی کہ اگر دوبارہ بلا اجازت نام استعمال ہوتا ہے تو امیتابھ بچن نئی قانونی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔