بھارتی اداکارہ رادھیکا آپٹے نے تیلگو فلموں میں کام کرنے کے اپنے تجربے کو ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایک فلم میں مجھے اپنے ماموں سے شادی کرنے کا کردار ادا کرنا پڑا جبکہ میرے مقابل ایک عمر رسیدہ اداکار کو مرکزی کردار میں کاسٹ کیا گیا تھا۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے رادھیکا آپٹے نے انکشاف کیا ہے کہ یہ میرے لیے انتہائی مشکل فلم تھی اور مجھے اس کی کہانی سمیت کئی پہلو پسند نہیں آئے، مجھے بعد میں اس فلم سے نفرت ہو گئی تھی، فلم میں مجھے ایک بڑی عمر کے اداکار کے ساتھ رومانوی مناظر بھی عکس بند کروانے پڑے جسے میں مردانہ بالادستی اور عورتوں پر ایسے ماحول کی زبردستی قرار دیتی ہوں۔
اداکارہ نے بتایا کہ فلم کی کہانی میں میرا کردار درمیان میں ہی مر جاتا ہے اور اداکار کو میری لاش کندھے پر اٹھا کر ایکشن مناظر بھی عکس بند کروانے تھے۔
اداکارہ نے مذاقاً کہا کہ میں اس دوران سوچتی رہی کہ کب میرے کردار کی موت واقع ہو گی اور میرا کام ختم ہو گا؟
انٹرویو میں موجود اداکارہ کیرتی سریش نے وضاحت کی کہ تیلگو اور تامل معاشرے میں ماموں سے شادی کی روایت عام پائی جاتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رادھیکا آپٹے نے فلم کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان کو 2014ء کی تیلگو فلم ’لیجنڈ‘ سے جوڑا ہے جس میں تیگلو فلموں کے ہیرو ننداموری بالاکرشنا رادھیکا کے مدِمقابل تھے۔
فلم کی ریلیز کے وقت بالاکرشنا کی عمر 54 سال جبکہ رادھیکا آپٹے کی عمر 29 سال تھی۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اداکارہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر انہیں کہانی اور بڑی عمر کے اداکار کے ساتھ کام کرنے پر اعتراض تھا تو انہوں نے فلم سائن کرنے سے پہلے اسکرپٹ اور مرکزی اداکار کے بارے میں معلومات کیوں حاصل نہیں کیں؟
تاہم رادھیکا آپٹے نے تاحال فلم کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔