عمر عبداللہ نے قاضی توقیر کی حمایت کا اعلان کردیا

مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گلوکار قاضی توقیر کی گلوکاری کو سراہتے ہوئے انہیں رئیلٹی شو بگ باس 20 جتوانے کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ قاضی توقیر بگ باس 20 جیت کر ٹرافی کشمیر لے کر آئیں، اس مقصد کے لیے وہ خود بھی انہیں ووٹ دیں گے۔

شوبھانکر مشرا کو یوٹیوب پوڈکاسٹ میں انٹرویو کے دوران جب عمر عبداللہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مقبوضہ ریاست کے ایک امیدوار کی شرکت کے باعث بگ باس دیکھ رہے ہیں؟ اس پر مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ نے فوری طور پر قاضی توقیر کا نام لیا اور کہا کہ وہ شو میں ان کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوان رانجی ٹرافی جیت رہے ہیں، اب اگر قاضی بگ باس کی ٹرافی جیت جائیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے قاضی کو چند کنسرٹس میں دیکھا ہے، وہ اچھا گاتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران شوبھانکر مشرا نے قاضی توقیر کی ماضی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2005 میں بھارتی ٹی وی کے مقبول رئیلٹی شو ’فیم گروکل‘ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس شو میں معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے بھی شرکت کی تھی۔

اس موقع پر عمر عبداللہ نے قاضی توقیر کی جانب سے اریجیت سنگھ کو شکست دے کر مقابلہ جیتنے کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات اچھی طرح یاد ہے۔ اچانک قاضی جیت گئے اور کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ اخبارات کے ذریعے بگ باس کے گھر میں ہونے والی سرگرمیوں سے باخبر رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اخبار میں پڑھتا ہوں کہ قاضی ہاؤس کے اندر چند جھگڑوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ چند روز قبل سلمان خان نے بھی ایک خاتون امیدوار سے کچھ باتیں کہنے پر انہیں تنبیہ کی تھی۔ 

جب میزبان نے انہیں بتایا کہ شو کے فاتح کا فیصلہ عوامی ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے تو عمر عبداللہ نے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تو پھر میں قاضی توقیر کو ووٹ دوں گا۔