بچوں میں کیفین کا استعمال مسائل کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق

—فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں کیفین استعمال کرنے والے بچوں کی نیند میں کمی اور ذہنی صحت سے متعلق علامات کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے، جس کے بعد کم عمر بچوں پر کیفین والے مشروبات کے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے 9 سے 11 سال کی عمر کے 9 ہزار 600 سے زائد بچوں کا جائزہ لیا۔

اس مقصد کے لیے بچوں کے کیفین کے استعمال، نیند کے معمولات اور دماغی اسکینز کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ محرک مادہ ان کی نشو و نما کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے بائیولوجیکل سائیکاٹری: کاگنیٹیو نیورو سائنس اینڈ نیورو امیجنگ میں شائع ہوئے۔

نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ کیفین استعمال کرنے والے بچوں کی نیند کا دورانیہ نسبتاً کم تھا، جبکہ دماغ کی بیرونی تہہ کے سطحی رقبے میں بھی کمی دیکھی گئی، دماغ کا یہ حصہ فیصلہ سازی، توجہ مرکوز کرنے اور جذبات پر قابو رکھنے جیسے اہم افعال انجام دیتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق دماغ کی ساخت میں یہ فرق ان بچوں میں بھی دیکھا گیا جو ہفتے میں صرف 1 بار کیفین والا مشروب استعمال کرتے تھے۔

تحقیق میں شامل بچوں کی کیفین کی زیادہ تر مقدار سافٹ ڈرنکس سے حاصل ہوتی تھی، تاہم کافی اور چائے بھی کیفین کے عام ذرائع میں شامل تھے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ کیفین استعمال کرنے والے بچوں میں توجہ، مزاج اور رویّوں سے متعلق ذہنی صحت کی علامات بھی نسبتاً زیادہ پائی گئیں۔

تحقیق کی سینئر مصنفہ اور کنگز کالج لندن سے وابستہ محقق نے کہا کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں کیفین کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اکثر یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ بچے بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً دو تہائی بچے ہفتے میں کم از کم ایک بار کیفین استعمال کرتے ہیں، اس کے باوجود نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والا مادہ ہونے کے باوجود کیفین کے استعمال سے متعلق مکمل طور پر کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ بچوں کی نیند میں کمی دماغ کی ساخت میں سامنے آنے والے فرق کی جزوی وضاحت کر سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کیفین براہِ راست ان تبدیلیوں کا سبب بنتی ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی کا استعمال اور طرزِ زندگی سے متعلق دیگر عوامل بھی ان نتائج میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔